کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 356
1. منقول و ماثور نہیں ۔ 2. الفاظ سے نیت کرنے والا یا تو انشا کا ارادہ کرتا ہے، یا خبر کا، ہر دو لحاظ سے باطل ہے۔ انشا سے اس لیے کہ نماز ان عقود میں سے نہیں ہے، جو انشا سے ثابت ہوتے ہیں اور خبر سے اس لیے نہیں ، کیوں کہ یا تو وہ خود کو خبر دے گا، یا اللہ کو یا کراما کاتبین کو۔ ان میں سے کوئی بھی صورت درست نہیں ۔‘‘ (التّنبیھات علی مشکلات الھدایۃ : 1/510-509) تنبیہ : ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : کَانَ الشَّافِعِيُّ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْخُلَ فِي الصَّلَاۃَ قَالَ : بِسْمِ اللّٰہِ، مُوَجِّہًا لِّبَیْتِ اللّٰہِ مُؤْدِیًا لِّفَرْضِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اللّٰہُ أَکْبَرُ ۔ ’’امام شافعی رحمہ اللہ نماز میں داخل ہونے لگتے، تو کہتے : بِسْمِ اللّٰہِ، مُوَجِّہًا لِّبَیْتِ اللّٰہِ مُؤْدِیًا لِّفَرْضِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اللّٰہُ أَکْبَرُ ۔ ’’بسم اللہ، منہ طرف کعبہ شریف، فرض واسطے اللہ تعالیٰ کے، اللہ اکبر۔‘‘ (معجم ابن المقریء : 317، وسندہٗ صحیحٌ) یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا اجتہاد ہے، جس پر قرآن و سنت، صحابہ، تابعین اور خیر القرون کے مسلمانوں کے عمل سے کوئی دلیل نہیں ، لہٰذا یہ اجتہاد خطا پر مبنی اورشاذ ہے۔ ہر ایک کی بات قرآن و سنت اور قرون ثلاثہ کے مسلمانوں پر پیش کی جائے گی، موافق ہو، تو قبول، ورنہ رد کر دی جائے گی۔