کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 355
کی موافقت اور ایک فرض کے لیے اہتمام ہو جاتا ہے۔‘‘
(عمدۃ الرّعایۃ : 1/139)
تنبیہ :
علامہ علی بن ابو بکر مرغینانی (۵۹۳ھ) لکھتے ہیں :
اَلنِّیَّۃُ ہِيَ الْإِرَادَۃُ وَالشَّرْطُ أَنْ یَعْلَمَ بِقَلْبِہٖ أَيَّ صَلَاۃٍ یُّصَلِّي، أَمَّا الذِّکْرُ بِاللِّسَانِ فَلَا مُعْتَبَرَ بِہٖ وَیَحْسُنُ ذٰلِکَ لِاجْتِمَاعِ عَزِیمَتِہٖ ۔
’’نیت قصد اور ارادے کا نام ہے، شرط یہ ہے کہ دل کو معلوم ہو کہ وہ فلاں نماز پڑھ رہا ہے، رہا زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا، تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ، ہاں قصد و ارادے کو جمع کرنے کے لیے (زبان سے نیت کرنا) مستحب ہے۔‘‘
(الھدایۃ : 1/95)
علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (۷۹۲ھ) لکھتے ہیں :
’’(یَحْسُنُ ذٰلِکَ لِاجْتِمَاعِ عَزِیمَتِہٖ) کا معنی یہ ہے کہ نماز کی نیت زبان سے کرنا مستحسن ہے، جب کہ یہ بات محل نظر ہے۔ ’المفید‘ میں لکھا ہے : ہمارے بعض مشائخ نے زبان سے نیت کو مکروہ جانا ہے، کیوں کہ نیت دل کی معرفت کا نام ہے، اللہ تعالیٰ مافی الضمیر پر مطلع ہے، لہٰذا زبان سے وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں ۔ یہی بات درستہے، کیوں کہ یہ کہنا : میں فلاں فلاں نماز کی نیت کرتا ہوں ، کئی لحاظ سے فضول ہے: