کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 325
’’جو قبرستان جا کرسورت فاتحہ، سورت اخلاص اور سورت تکاثر پڑھے، پھر یوں کہے : اللہ! جو میں نے تیرے کلام میں سے پڑھا، اس کا ثواب اس قبرستان والے مومن مردوں ، مومن عورتوں کو پہنچا، تو وہ تمام اللہ کے ہاں اس کی سفارش کریں گے۔
(الفوائد لأبي القاسم الزنجي، نقلا عن شرح الصّدور للسّیوطي ، ص 404)
بے سند ہونے کی وجہ باطل ہے۔
دلیل نمبر6
حماد مکی نے بیان کیا ہے :
خَرَجْتُ لَیْلَۃً إِلٰی مَقَابِرِ مَکَّۃَ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلٰی قَبْرٍ فَنِمْتُ، فَرَأَیْتُ أَہْلَ الْمَقَابِرِ حَلْقَۃً حَلْقَۃً فَقُلْتُ : قَامَتِ الْقِیَامَۃُ؟ قَالُوْا : لَا، وَلٰکِنْ رَجُلٌ مِّنْ إِخْوَاننَا قَرَأَ ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ﴾، وَجَعَلَ ثَوَابَہَا لَنَا، فَنَحْنُ نَقْتَسِمُہٗ مُنْذُ سَنَۃٍ ۔
’’ ایک رات میں مکہ کے قبرستان گیا اور ایک قبر پر سر رکھ کر سو گیا، میں نے خواب دیکھا کہ قبروں والے حلقوں میں کھڑے ہیں ۔ پوچھا : کیا قیامت قائم ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔ ایک ہمارے کسی بھائی نے سورت اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب ہمیں بخش دیا۔ ہم ایک سال سے اسے تقسیم کر رہے ہیں ۔‘‘
(شرح الصّدور للسّیوطي، ص 404)