کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 323
کَذَّبَہٗ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ، وَلَمْ یَعْرِفْہُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبِکُلِّ حَالٍ؛ فَہُوَ شَیْخٌ کَذَّابٌ، لَہٗ نُسْخَۃٌ مَّوْضُوعَۃٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُوسَی الرَّضٰی، رَوَاھَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدُ بْنُ مِہْرَوَیْہِ الْقَزْوِینِيُّ الصَّدُوقُ عَنْہُ ۔
’’امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کذاب (پَرلے درجے کا جھوٹا) کہا ہے، امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے مجہول قرار دیا ہے، یہ ہر حال میں کذاب ہے، اس کے پاس علی بن موسیٰ رضی کی سند سے موضوع روایتوں پر مشتمل ایک نسخہ تھا، اس سے آگے علی بن محمد بن مہرویہ قزوینی صدوق بیان کرتا ہے۔‘‘
(میزان الاعتدال : 2/8؛ لسان المیزان لابن حجر : 2/417)
دلیل نمبر4
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ دَخَلَ الْمَقَابِرَ فَقَرَأَ سُورَۃَ یٰس خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَکَانَ لَہٗ بِعَدَدِ مَنْ فِیہَا حَسَنَاتٌ ۔
’’جو قبرستان میں داخل ہو اور سورت یس تلاوت کرے، تو اس قبرستان والوں سے اللہ عذاب میں تخفیف کرتا ہے اور پڑھنے والے کو مردوں کی تعداد کے برابر نیکیاں ملتی ہیں ۔‘‘
(شرح الصّدور للسّیوطي، ص 404)
جھوٹ کا پلندہ ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کی یہ سند ذکر کی ہے:
أَخْرَجَہُ الثَّعْلَبِيُّ فِي تَفْسِیرِہٖ (2/161) مِنْ طَرِیْقِ مُحَمَّدِ بْنِ