کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 315
اس کی امام ابن حبان رحمہ اللہ ( الثقات:716)کے علاوہ کسی نے توثیق نہیں کی۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ہٰذَا الْحَدْیْثُ بِأَيِّ إِسْنَادٍ کَانَ، فَہُوَ مَنْکَرٌ ۔
’’یہ حدیث جس سند سے بھی آئی ہے، منکر ہے۔‘‘
(الکامل في ضعفاء الرّجال : 3/29)
’’ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔‘‘
(جامع الأحادیث للسّیوطي : 7174)
امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إِبْرَاہِیْمُ وَأَبُوْہُ لَیْسَا بِمَشْہُوْرِیْنَ بِنَقْلِ الْحَدِیْثِ، وَالْحَدِیْثُ غَیْرُ مَحْفُوْظٍ ۔
’’ابراہیم اور اس کا باپ دونوں نقل حدیث میں معروف نہیں ہیں ، چنانچہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔‘‘ (الضّعفاء الکبیر : 551)
ان ائمہ کی تصریحات سے ثابت ہوا کہ یہ روایت ثابت نہیں ، لہٰذا اس کی بنیاد پر میت کی طرف سے نماز پڑھنے کا ثبوت فراہم کرنا درست نہ ہوا۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
لَا یُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَّلَا یَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ وَلٰکِنْ یُطْعِمُ عَنْہُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ مُدًّا مِّنْ حِنْطَۃٍ ۔
’’کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے، نہ روزہ رکھے، بلکہ (روزے کی جگہ)