کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 305
ہم کہتے ہیں کہ قبروں پر میلوں کی دلیل تو کجا، اسے تو شریعت نے ممنوع و حرام ٹھہرایا ہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا تَجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ قُبُورًا، وَّلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِیدًا، وَّصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِي حَیْثُ کُنْتُمْ ۔
’’گھروں کو قبرستان مت بنائیں ، نہ ہی میری قبر کو میلہ گاہ بنانا، مجھ پر درود پڑھیں ، آپ جہاں بھی ہو گے، آپ کادرود مجھ تک پہنچے گا۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 2/368، سنن أبي داوٗد : 2042، واللّفظ لہٗ، وسندہٗ حسنٌٌ)
حافظ نووی رحمہ اللہ (الاذکار ص 106، خلاصۃ الاحکام : 1/440) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباری : 6/488) نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ہٰذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، فِإِنَّ رُوَاتَہٗ کُلَّہُمْ ثِقَاتٌ مَّشَاہِیرٌ ۔
’’اس کی سند حسن ہے، اس کے تمام راوی مشہور ثقہ ہیں ۔‘‘
(اقتضاء الصّراط المستقیم : 2/654)
اس حدیث میں قبروں پر میلے ٹھیلے لگانے کی واضح ممانعت ہے۔ اس کا یہ معنی بھی ایک صاحب نے کیا ہے :
’’میری قبر پر جمع نہ ہو، تنہا تنہا ہی آیا کرو۔‘‘
(جاء الحق از نعیمی، جلد 1 ص 325)
سوال ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر اجتماع ممنوع ہے، تو کسی دوسرے کی قبر پر اجتماع کا جواز کہاں سے آیا؟