کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 297
جھوٹ کا پلندا ہے۔
1.امام بیہقی رحمہ اللہ اسے ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
فِي إِسْنَادِہٖ إِلَی الثَّوْرِيِّ مَنْ لاَّ یُعْرَفُ ۔
’’اس حدیث کی سفیان ثوری کی طرف سند میں ایک مجہول ہے۔‘‘
2. سفیان ثوری ’’مدلس‘‘ ہیں ، سماع کی صراحت نہیں کی ۔
3.ابو الزبیر بھی ’’مدلس‘‘ ہیں ، سماع کی تصریح نہیں کی۔
نوٹ :
بنت حمزہ کا واقعہ صحیح بخاری(2699وغیرہ) میں ہے، لیکن وہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناچنے کا ذکر نہیں ، لہٰذا ان روایات پر ضعف کا جو حکم لگایا گیا ہے، وہ ناچ والے سیاق کے متعلق ہے۔
الحاصل :
رقص ممنوع وحرام ہے، اس کے جواز پر کوئی دلیل نہیں ۔