کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 285
صحیح مسلم کے الفاظ ہیں :
جَائَ حَبَشٌ یَزْفِنُونَ فِي یَوْمِ عِیدٍ فِي الْمَسْجِدِ ۔
’’ عید کے دن حبشی لوگ مسجد میں جنگی مشقیں کرنے لگے۔‘‘
٭ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
کَانَتِ الْحَبَشَۃُ یَزْفِنُونَ بَیْنَ یَدَيْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَرْقُصُونَ وَیَقُولُونَ : مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا یَقُولُونَ؟ قَالُوا : یَقُولُونَ : مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ ۔
’’حبشی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگی مشقیں کررہے تھے اور رقص کرتے ہوئے کہہ رہے تھے : محمد صلی اللہ علیہ وسلم نیک آدمی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ صحابہ کرام نے بتایا:یہ کہہ رہے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نیک آدمی ہیں ۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 3/152، وسندہٗ صحیحٌ وصححہ ابن حبان : 5870)
صحیح ابن حبان میں الفاظ ہیں :
یَتَکَلَّمُونَ بِکَلَامٍ لَّا یَفْہَمُہٗ ۔
’’وہ ایسا کلام کررہے تھے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ نہیں پا رہے تھے۔‘‘
٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ)لکھتے ہیں :
اِسْتَدَلَّ قَوْمٌ مِّنَ الصُّوْفِیَّۃِ بِحَدِیْثِ الْبَابِ عَلٰی جَوَازِ الرَّقْصِ