کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 282
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِي لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا أُولٰئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ﴾
(لقمان : 6)
’’کچھ لوگ بے ہودگی کے سوداگر ہیں تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کریں اور اسے مذاق بنائیں ۔ یہی لوگ ہیں ، جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘
رقص ’’لہو الحدیث‘‘ ہے، لہٰذا ممنوع وحرام ہے۔
بعض حضرات نے رقص کرنے پر کچھ دلائل پیش کئے ہیں ، یہاں ہم ان دلائل کا جائزہ لیں گے ۔
دلیل نمبر1:
سیدنا ایوب علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے
﴿اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ھٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ﴾(صٓ : 42)
’’(ہم نے حکم دیا :ایوب!) اپنا پاؤں ماریں ، (دیکھو) یہ نہانے کے لیے ٹھنڈا اورپینے کو (میٹھاپانی ہے)۔‘‘
علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
اِسْتَدَلَّ بَعْضُ جُہَّالِ الْمُتَزَہِّدَۃِ، وَطَغَامِ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِقَوْلِہٖ تَعَالٰی لِأَیُّوبَ : ﴿اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ﴾ عَلٰی جَوَازِ الرَّقْصِ ۔
’’بعض زہد وتقویٰ کے مارے جہلا اور صوفی ازم کا نعرہ لگانے والوں نے