کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 268
روایت نمبر2
زارع بن عامر رضی اللہ عنہ ،جو وفدِ عبدقیس میں شامل تھے،ان کی طرف منسوب ہے :
لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ، فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَّوَاحِلِنَا، فَنَتَقَبَّلُ یَدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَہٗ ۔
’’ہم مدینہ منورہ پہنچے، تو جلدی میں اپنے کجاؤوں سے نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے۔‘‘
(سنن أبي داوٗد : 5225، القبل والمعانقۃ والمصافحۃ لابن الأعرابي : 41، الأدب المفرد للبخاري : 975)
سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔
امِ ابان بنت وازع کی کسی محدث نے توثیق نہیں کی۔
لہٰذا حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ کا یہ کہنا درست نہیں :
رَوَتْ ۔۔۔ حَدِیثًا حَسَنًا، سَاقَتْہُ بِتَمَامِہٖ وَطُولِہٖ سِیَاقَۃً حَسَنَۃً ۔
’’ام ابان نے ۔۔۔ ایک حسن حدیث روایت کی ہے۔ اس نے اس حدیث کو مکمل اور طول کے ساتھ اچھا بیان کیا ہے۔‘‘
(الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب : 4/80)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امِ ابان کو ’’مجہولات‘‘میں شمار کیا ہے۔
(میزان الاعتدال : 4/611)
روایت نمبر3
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا : اللہ