کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 253
’’بعض حرام کام یہ ہیں : قبر پر اعتکاف، اس کے پاس مجاور بن کر بیٹھنا، اس کی خدمت کرنا، اس پر یوں پردے لٹکانا کہ گویا وہ اللہ کا گھر کعبہ ہو۔‘‘
(اقتضاء الصّراط المستقیم، ص 267)
نیز فرماتے ہیں :
مِنْہُمْ مَّنْ یُّعَلِّقُ عَلَی الْقَبْرِ الْمَکْذُوبِ أَوْ غَیْرِ الْمَکْذُوبِ، مِنَ السُّتُورِ وَالثِّیَابِ، وَیَضَعُ عِنْدَہٗ مِنْ مَّصُوغِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ، مَا قَدْ أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلٰی أَنَّہٗ لَیْسَ مِنْ دِینِ الْإِسْلَامِ ۔
’’بعض لوگ جعلی یا اصلی قبر پر پردے اور کپڑے لٹکاتے ہیں اور اس کے پاس سونے، چاندی کے زیورات رکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کا اتفاق واجماع ہے کہ ان چیزوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔‘‘
(اقتضاء الصّراط المستقیم، ص 384)
شیخ الاسلام رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
قَدِ اتَّفَقَ أَئِمَّۃُ الدِّینِ عَلٰی أَنَّہٗ لَا یُشْرَعُ بِنَائُ الْمَسَاجِدِ عَلَی الْقُبُورِ، وَلَا أَنْ تُعَلَّقَ عَلَیْہَا السُّتُورُ ۔
’’ائمہ دین کا اتفاق ہے کہ قبروں پر مسجدیں بنانا اور ان پر پردے لٹکانا جائز نہیں ۔‘‘ (جامع الرسائل : 1/54)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ)فرماتے ہیں :
مِنْہَا مُشَابَہَۃُ عِبَادَۃِ الْـأَصْنَامِ بِمَا یُفْعَلُ عِنْدَہَا، مِنَ الْعُکُوفِ عَلَیْہَا، وَالْمُجَاوَرَۃِ عِنْدَہَا، وَتَعْلِیقِ السُّتُورِ عَلَیْہَا وَسَدَانَتِہَا،