کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 238
’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات ہوئی۔ ابن حنفیہ رحمہ اللہ ان کے والی بنے۔ انہوں نے ان پر تین د ن خیمہ لگایا۔‘‘
(مصنّف ابن أبي شیبۃ : 3/335)
سند ہشیم بن بشیر واسطی رحمہ اللہ کے عنعنہ کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے۔
فائدہ نمبر 2 :
محمد بن منکدر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
إِنَّ عُمَرَ ضَرَبَ عَلٰی قَبْرِ زَیْنَبَ فُسْطَاطًا ۔
’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زینب رضی اللہ عنہا کی قبر پر خیمہ گاڑا۔‘‘
(مصنّف ابن أبي شیبۃ : 3/335)
سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔
1.ابو معشر (نجیح بن عبدالرحمن) جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔
حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ہُوَ ضَعِیْفٌ عِنْدَ الْجُمْہُوْرِ ۔
’’جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔‘‘(طرح التّثریب : 3/4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ضَعِیْفٌ، أَسَنَّ، وَاخْتَلَطَ ۔
’’ضعیف ہے۔ عمررسیدہ ہوکر اختلاط کا شکار ہوگیا تھا۔‘‘
(تقریب التّہذیب : 7100)
2.محمد بن منکدر کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کا مسئلہ بھی ہے۔