کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 224
رُفِعَ قَبْرُہٗ مِنَ الْـأَرْضِ نَحْوًا مِّنْ شِبْرٍ ۔
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک زمین سے تقریباً ایک بالشت اونچی تھی۔‘‘
(السّنن الکبریٰ للبیہقي : 3/407؛ وصححہ ابن حبان : 6635؛ وسندہٗ صحیحٌٌ)
11.سفیان تمار رحمہ اللہ کہتے ہیں :
دَخَلْتُ الْبَیْتَ الَّذِي فِیہِ قَبْرُ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَرَأَیْتُ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَبْرَ أَبِي بَکْرٍ، وَعُمَرَ مُسَنَّمَۃً ۔
’’میں اس حجرے میں داخل ہوا، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تھی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کو کوہان نما دیکھا۔‘‘
(مصنف ابن أبي شیبۃ : 3/333، صحیح البخاري : 1390، مختصراً، وسندہٗ صحیحٌٌ)
12.قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ، فَقُلْتُ : یَا أُمَّہِ اکْشِفِي لِي عَنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَیْہِ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، فَکَشَفَتْ لِي عَنْ ثَلَاثَۃِ قُبُورٍ لَّا مُشْرِفَۃٍ، وَلَا لَاطِئَۃٍ مَّبْطُوحَۃٍ بِبَطْحَائِ الْعَرْصَۃِ الْحَمْرَائِ ۔
’’میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا : امی جان! میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں (سیّدنا ابو بکر صدیق اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما ) کی قبریں کھول دیجئے، (یعنی اپنا حجرہ کھول دیجئے)انہوں نے