کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 223
’’قبریں برابر کرنا سنت ہے، یہود ونصاریٰ نے قبروں کو بلند کیا ہے، آپ ان کی مشابہت نہ کرو۔‘‘
(المُعجم الکبیر للطّبراني : 19/352، ح : 823، اقتضاء الصّراط المستقیم لابن تیمیۃ : 1/297، وسندہٗ صحیحٌٌ)
7.ابومجلز رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں :
تَسْوِیَۃُ الْقُبُورِ مِنَ السُّنَّۃِ ۔
’’قبریں برابر کرنا سنت ہے۔‘‘
(مصنّف ابن أبي شیبۃ : 3/342، وسندہٗ صحیحٌٌ)
8.قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رحمہ اللہ نے وصیت فرمائی تھی:
یَا بُنَيَّ لَا تَکْتُبْ عَلٰی قَبْرِي، وَلَا تُشَرِّفَنَّہٗ إِلَّا قَدْرَ مَا یَرُدُّ عَنِّي الْمَائَ ۔
’’بیٹا! میری قبر پر کچھ نہ لکھنا، نہ ہی اسے بلند کرنا، مگراتنا بلند کر دیناکہ مجھ سے پانی ہٹ جائے۔‘‘
(مصنّف ابن أبي شیبۃ : 3/335، وسندہٗ حسنٌٌ)
9.عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ نے فرمایا:
لَا تَرْفَعُوا جَدَثِي، فَإِنِّي رَأَیْتُ الْمُہَاجِرِینَ یَکْرَہُونَ ذٰلِکَ ۔
’’میری قبر اونچی نہ کرنا، کیونکہ میں نے مہاجرین صحابہ کرام کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔‘‘
(الطّبقات الکبرٰی لابن سعد : 6/108، وسندہٗ صحیحٌٌ)
10.سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :