کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 216
وَحِفْظِہَا ۔
’’امامیہ (شیعہ کاایک گروہ) کاکہنا ہے کہ انبیا اور اولیا کی قبروں پر تعمیر کرنا، انہیں پختہ کرنا اور ان کی حفاظت کرنا جائز ہے۔‘‘
(البَراہین الجلیّۃ، ص 41)
صحابہ کرام، تابعین کے دَور میں قبروں پر قبوں کا نام ونشان تک نظر نہیں آتا۔ البتہ صحیح احادیث اورصحابہ کرام اورتابعین عظام سے ان کی مذمت ضرور ثابت ہے :
1.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ یُّقْعَدَ عَلَیْہِ، وَأَنْ یُبْنٰی عَلَیْہِ ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پختہ کرنے، اس پربیٹھنے اور تعمیر سے منع فرمایا۔‘‘
(صحیح مسلم : 970)
2.سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت کچھ وصیتیں فرمائی تھیں ۔ ایک وصیت یہ تھی :
لَا تَجْعَلُوا عَلٰی قَبْرِی بِنَائً ۔
’’میری قبر پر عمارت نہ بنانا۔‘‘
حاضرین نے ان سے پوچھا :
أَوَسَمِعْتَ فِیہِ شَیْئًا؟ قَالَ : نَعَمْ، مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
’’کیا آپ نے اس بارے کوئی بات سنی؟ فرمایا : جی ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 4/397، وسندہٗ حسنٌٌ)