کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 205
2.شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
کَذٰلِکَ إِیْقَادُ الْمَصَابِیْحِ فِي ہٰذِہِ الْمَشَاہِدِ مُطْلَقًا، لَا یَجُوْزُ بِلَا خِلَافٍ ۔
’’اسی طرح ان جگہوں میں چراغاں بالاتفاق ناجائز ہے۔‘‘
(اقتضاء الصّراط المستقیم : 2/657)
شیخ الاسلام رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
بِنَائُ الْمَسْجِدِ وَإِسْرَاجُ الْمَصَابِیحِ عَلَی الْقُبُورِ مِمَّا لَمْ أَعْلَمْ خِلَافًا أَنَّہٗ مَعْصِیَۃٌ لِلّٰہِ وَرَسُولِہٖ ۔
’’قبروں پر مسجد بنانا اور چراغاں کرنا ان کاموں سے ہیں ، جن کے اللہ اور رسول کے مخالف ہونے میں اختلاف نہیں ۔‘‘
(مجموع الفتاوٰی : 31/45،60)
3.علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں :
إِیْقَادُ السُّرُجِ عَلَیْہَا، وَہُوَ مِنَ الْکَبَائِرِ ۔
’’قبروں پر چراغاں کبیرہ گناہ ہے۔‘‘
(إغاثۃ اللّہفان : 1/197)
نیز فرماتے ہیں :
’’نصاریٰ کی عادت ہے کہ وہ شمعیں روشن کر کے مُردہ قبر میں اتارتے ہیں اور اپنی کتابوں کی بلندآواز سے قراء ت کرتے ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے جنازہ کے ساتھ آگ لانے سے منع فرمایا، انہیں ڈر تھا