کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 187
﴿إِذْ قَالَ لِأَبِیہِ وَقَوْمِہٖ مَا تَعْبُدُونَ ٭ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَہَا عَاکِفِینَ﴾ (الشّعراء : 71-70)
’’ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے سوال کیا کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو یہ کیا ہیں ؟، کہنے لگے : ہم بتوں کے پجاری اور ان کے مجاور ہیں۔‘‘
٭ نیز فرمایا:
﴿ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ ﴾
(الأنبیاء : 52)
’’ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا : کیا ہیں یہ مورتیاں ، جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟‘‘
٭ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِیلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُونَ عَلٰی أَصْنَامٍ لَّہُمْ قَالُوا یَا مُوسَی اجْعَلْ لَنَا إِلٰہًا کَمَا لَہُمْ آلِہَۃٌ قَالَ إِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْہَلُونَ﴾ (الأعراف : 138)
’’ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا، تو ایک بتوں کی مجاور قوم پر جا اترے، بنی اسرائیل کہنے لگے : موسیٰ! ان کی طرح ہمیں بھی کوئی معبود بنا دیں ، موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے : آپ بہت بڑے جاہل ہو!‘‘
اس آیت کی تفسیر میں ایک حدیث ملاحظہ ہو:
٭ سنان بن ابی سنان دؤلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :