کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 780
ایک دوسرے سے معانقہ کرتے تھے۔‘‘ بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ (۹۷۰) اور احمد (۳/۴۹۵) نے جابر بن عبداللہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا: ’’ایک آدمی سے مجھے حدیث پہنچی اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، میں نے ایک اونٹ خریدا، پھر میں نے رخت سفر باندھا، میں نے ایک ماہ سفر کیا، حتی کہ میں شام پہنچا، وہاں عبداللہ بن انیس تھے، میں نے دربان سے کہا: انہیں کہو: جابر دروازے پر ہے،انہوں نے کہا: ابن عبداللہ؟ میں نے کہا: ہاں، تو وہ اپنا کپڑا روندتے (گھسیٹتے) ہوئے باہر آئے [1] انہوں نے مجھ سے معانقہ کیا اور میں نے ان سے معانقہ کیا۔‘‘ اس کی اسناد حسن ہیں جیسا کہ حافظ (۱/۱۹۵) نے بیان کیا: اور بخاری نے اسے معلق روایت کیا ہے۔ بدعت اور اس کے متعلقات کے حوالے سے ہم اپنے شیخ البانی کے کلام سے جو جمع کرنے میں کامیاب ہو سکے وہ مکمل ہوا، اللہ کا شکر ہے جس کے فضل وکرم سے نیک اعمال مکمل ہوتے ہیں۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔
[1] عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے جابر رضی اللہ عنہ کی محبت اور شوقِ ملاقات میں اپنے کپڑے کو بھی پوری طرح نہ سنبھالا۔ (شہباز حسن).