کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 779
کہا: آپ دلیل کے بغیر اسے کس طرح خاص کرتے ہیں؟ تو مالک خاموش ہو گئے۔ القاضی نے بیان کیا: ان کا خاموش ہوجانا ان کے سفیان کے قول کو تسلیم کر لینے اور ان سے موافقت کرنے کی دلیل ہے، اور یہی درست ہے حتی کہ تخصیص کی دلیل قائم ہو جائے۔‘‘
کیا اشتیاق کے وقت معانقہ جائز ہے؟
ہمارے شیخ نے ’’مختصر الشمائل‘‘ (ص۷۹) حدیث رقم (۱۱۳) کے تحت بیان کیا:
اس میں حضر میں معانقے کا جواز ہے، ہو سکتا ہے وہ شوق کے غلبہ کے وقت ہو، ورنہ وہ ہر ملاقات کے وقت غیر مشروع ہے! کیونکہ اس کی ممانعت کا ثبوت موجود ہے، جیسا کہ۔ ’’الصحیحۃ‘‘ (۱۶۰) میں واضح ہے۔
فائدہ…: حدیث یہ ہے: انس بن مالک سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
’’ایک آدمی نے عرض کیا، اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے دوست سے ملتا ہے، کیا وہ اس کے لیے جھک جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں‘‘، اس نے کہا: کیا وہ اس سے معانقہ کرے اور اسے بوسہ دے؟ فرمایا: ’’نہیں‘‘ اس نے کہا: کیا وہ اس سے مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں! اگر چاہے۔‘‘
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیح‘‘ (۱/۳۳۰) میں حدیث رقم (۱۶۰) ۔ط۔ المعارف کے تحت بیان کیا:
جی ہاں، ان شواہد میں، جو ہم نے اس کے لیے نقل کیے، نظر ثانی کے بعد واضح ہوا اور ان کی روایت کے لیے تقویت ہے کہ اس میں وہ الفاظ: ’’ وَلَا یَلْتَزِمُہٗ‘‘ (اس سے معانقہ نہیں کرے گا) کے الفاظ نہیں ہیں، اسی لیے میرے دل میں خیال آیا کہ اس طبع میں متن حدیث سے وہ الفاظ حذف کر دیے جائیں، پھر انہوں نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۱/۳۰۱) میں بیان کیا:
رہا معانقہ کرنا، تو جب تک اس سے حدیث میں ممانعت ثابت نہیں ہوتی جیسا کہ بیان گزرا، تب تک اسے اصل پر باقی رکھنا واجب ہے، اور وہ ہے اباحت، خاص طور پر کہ بعض احادیث اور آثار سے اس کی تائید ہوتی ہے، انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جب ملاقات کرتے تھے تو آپس میں مصافحہ کرتے تھے، اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے تھے۔‘‘
امام طبرانی نے اسے ’’الاوسط‘‘ میں روایت کیا ہے۔ اس کے راوی الصحیح کے راوی ہیں۔ جیسا کہ منذری (۳/۲۷۰) نے کہا، ہیثمی (۸/۳۶) نے بیان کیا، بیہقی (۷/۱۰۰) نے صحیح سند کے ساتھ شعبی سے روایت کیا۔
’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے، اور جب وہ سفر سے واپس آتے تھے تو