کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 776
المولی سبحانہ کی عظیم تقدیر میں سے ہے کہ خطبہ حاجت ’’الفتاوی‘‘ کی اس جلد میں آیا ہے جس کی طرف فاضل مذکور نے نسبت کی ہے! شیخ الاسلام، اللہ ان پر راضی ہو، کے دو رسالوں کے مقدمے میں اس مقام کے خلاف جس کی طرف خود … اس نے ابھارتے ہوئے … اشارہ کیا ہے اور جس میں انہوں نے اس مبارک خطبہ نبویہ کے متعلق تفصیل سے بحث کی ہے، یہ تو ان جلدوں میں ہے فتاوی کی باقی جلدوں سے قطع نظر، یا ان کی دوسری کتابوں سے قطع نظر (کہ ان میں بھی یہ خطبہ حاجت بکثرت مذکور ہے) اور اسی طرح ان کے شاگرد ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ بھی ہیں…
تو کیا یہ دونوں امام اس فاضل شخص کے لیے نمونہ نہیں کہ وہ ان دونوں کی اتباع کرتا۔ خواہ ایک مرتبہ۔، وہ اپنی کسی ایک کتاب کا خطبہ حاجت سے افتتاح کرتا؟
(۴)… اس سے جو اس کی ہر عمل صالح سے پہلے مشروعیت کے عموم کی تاکید کرتا ہے وہ ابن عباس کی روایت ہے، جسے مسلم نے ضماد کے مکہ آنے کے واقعہ میں روایت کیا ہے، اور یہ کہ ضماد نے اس کے سننے کے بعد اسلام قبول کر لیا، وہ نکاح کا موقع تھا نہ عقد زواج کا۔
(۵)… گویا کہ شیخ الاسلام رحمہ اللہ اپنے بعض کلام میں اس خطبہ کے سلسلے میں پائی جانے والی کوتاہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں … جیسا کہ میں نے اس طرف اشارہ کیا … انہوں نے فرمایا:
’’علم کے ساتھ لوگوں کو مخاطب کرتے وقت عمومی طور پر اور کتاب و سنت کی تعلیم، اور اس میں سوجھ بوجھ کے وقت لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان سے بحث و مباحثہ کرتے وقت خصوصی طور پر اس پر عمل کیا گیا، اور مستحب قرار دیا گیا کہ اس شرعی نبوی خطبہ سے آغاز کیا جائے۔
ہمارے دور کے وہ شیوخ جن سے ہماری ملاقات ہوئی، اور ہم نے ان سے علم حاصل کیا، وہ اور دیگر مدارس وغیرہ میں تفسیر یافقہ وغیرہ کی مجالس کا آغاز ایک دوسرے خطبہ سے کرتے تھے…‘‘
’’…جیسا کہ میں نے لوگوں کو نکاح کے لیے مشروع خطبہ کے بغیر خطبہ پڑھتے ہوئے دیکھا، اور ہر قوم کے لیے دوسروں کے علاوہ ایک الگ نوع ہے۔‘‘
میں کہتا ہوں: آپ رحمہ اللہ کے شیوخ کے اپنی مجالس کا شرعی خطبہ حاجت کے بغیر افتتاح کرنے اور اسی طرح جو لوگ نکاح کے لیے مشروع خطبہ کے بغیر خطبہ پڑھتے ہیں، کے درمیان موازنہ کرنے پر غور کریں، آپ پر حق ظاہر ہو جائے گا، اور درست بات آپ پر منکشف ہو جائے گی، اور کوئی شک نہیں رہے گا۔
والحمد للہ رب العالمین۔