کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 775
میں اللہ کی توفیق سے بیان کرتا ہوں:
(۱)… وہ فرض نہیں کہ اسے کبھی کبھار نہ چھوڑا جائے، بلکہ کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے وہ زیادہ درست ہے، اور وہ ہے اسے کبھی کبھار ترک کر دینا، حتی کہ کوئی اس کی فرضیت کے وہم کاشکار نہ ہو جائے! جیسا کہ قیام رمضان کی روایت میں ہے:
’’إِنِّی خَشِیْتُ اَنْ تُکْتَبَ عَلَیْکُمْ‘‘
’’مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ (نماز تراویح) تم پر فرض نہ کر دی جائے۔‘‘
اور اس ضمن میں جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ ہم اس پر اچھی طرح عمل کرتے ہیں۔ وللہ الحمد، کہ میں نے اپنی متعدد تالیفات اور تحقیقات کا اس خطبہ سے آغاز نہیں کیا، مثلاً ابن ابی شیبہ کی کتاب ’’کتاب الایمان‘‘، ’’حجاب المرأۃ المسلمۃ‘‘/ طبع اوّل، ’’تمام المنۃ‘‘/ طبع دوم، ’’آداب الزفاف‘‘ / طبع دوم … اور اس کے آخر پر ’’السلسلۃ الصحیحۃ‘‘ جلد اوّل طبع جدید پر میرا مقدمہ… اور ان کے علاوہ بہت سی تالیفات۔
(۲)… جب اس کی پابندی بدعت ہے تو اس کو مطلق چھوڑ دینے کا کیا حکم ہے؟ جیسا کہ وہ اکثر مؤلفین کی حالت و عادت ہے، ان میں سے یہ صاحب بھی ہیں جن پر رد ہو رہا ہے۔ اللہ اسے بھی توفیق دے۔ میں نے اسے اپنی کتاب کا اس مبارک خطبہ سے افتتاح کرتے ہوئے نہیں دیکھا، وہ اس کے بدلے میں ایسے خطبے لکھتا ہے جو اس کے اپنے ایجاد کردہ ہیں! کیا یہ اس باب سے نہیں:
﴿اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ھُوَ اَدْنٰی بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ﴾ (البقرۃ: ۶۱)؟
’’کیا تم ایک بہتر چیز کے بدلے ایک ادنی چیز لینا چاہتے ہو؟‘‘
(۳)… مذکورہ عالم نے … اپنی کتاب کے حاشیے کی اس جگہ … ’’فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ‘‘ (۱۸/۲۸۶۔۲۸۷) کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس لفظ سے اشارہ کیا: ’’مھم‘‘ (اہم ہے)!
میں کہتا ہوں: ہاں وہ اہم ہے، اور اس کے اہم میں سے آپ رحمہ اللہ کا قول ہے: ’’ابن مسعود کی روایت نکاح کے ساتھ خاص نہیں، وہ تو ہر حاجت کے لیے خطبہ ہے جس میں بندے ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں۔‘‘
فاضل مذکور کے تعجب کی کیا قیمت ہے کہ اصحاب السنن نے خطبہ حاجت کو کتاب النکاح میں روایت کیا ہے؟!
اسی طرح کا معاملہ اس کی بحث کے آخر میں اس کے قول میں ہے: ’’اس اثبات سے اصحاب ’’السنن‘‘ کے ’’کتاب النکاح‘‘ میں خطبہ حاجت کو بیان کرنے کی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ اور عقد زواج سے پہلے علماء کے اسے مشروع قرار دینے کا اثبات معلوم ہوتا ہے۔