کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 770
بیضاوی کا قول جو کہ حدیث نبوی[1] کے فہم سے متصادم ہے بڑی عجیب بات ہے، ان کا پورا قول اس طرح ہے:
’’رہا وہ شخص جس نے کسی صالح کے پڑوس میں مسجد بنائی، یا اس نے کسی قبرستان میں نماز پڑھی اور اس سے اس کی روح سے غلبہ اور کامیابی کا قصد کیا یا اس کی عبادت کے آثار میں سے کسی اثر کا اس تک پہنچنے کا قصد کیا، اس کی تعظیم کے لیے نہ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔‘‘
جیسا کہ انہوں نے کہا: اس میں جو وثنیت اور گمراہی کے آثار ہیں وہ کوئی مخفی نہیں! بچا ہوا وہی ہے جسے اللہ بچائے، اسی لیے علماء نے ان کی علمی گرفت کی، امام مناوی رحمہ اللہ نے ان کا یہ قول نقل کرنے کے بعد فرمایا:
’’لیکن شیخین کی خبر میں قبروں پر مسجد بنانے کی مطلق کراہت ہے، مراد مسلمانوں کی قبریں ہے، اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں قبر والے کی پوجا نہ ہو، روایت میں قرینہ ہے:
(( اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِیْ وَثَنًا یُّعْبَدُ۔))
’’اللہ! میری قبر کوبت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے۔‘‘
ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد نے قبر کے پاس مسجد بنانے کی کراہت پر صراحت کی ہے جیسا کہ اس بارے میں نص آئے گی۔
’’عند‘‘ (پاس) کے ساتھ تعبیر ’’فوق‘‘ یا ’’علی‘‘ (اوپر) سے زیادہ عام ہے، جیسا کہ ظاہر ہے، جس نے کسی صالح کے پڑوس میں مسجد بنائی تو اس نے اس کے پاس بنائی، اور اس پر محمد کا کلام بیضاوی پر ان کی اس نئی رائے پر رد ہے، اور صنعانی نے بھی ’’سبل السلام‘‘ (۱/۲۱۴) میں ان پر رد کیا ہے، انہوں نے کہا:
’’ان کا قول: اس کی تعظیم کے لیے نہیں، کہا جائے گا: اس کے قرب میں مساجد بنانا اور اس سے حصول برکت کا قصد اس کی تعظیم ہی ہے، پھر نہی کی احادیث مطلق ہیں اور انہوں نے جو وجہ ذکر کی ہے اس پر کوئی دلیل نہیں، اور ظاہر ہے کہ علت سد ذریعہ اور بتوں کے بچاریوں سے مشابہت اختیار کرنے سے دوری ہے جو ان جمادات کی تعظیم کرتے ہیں جونفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، اور اس میں مال خرچ کرنا عبث اور تبذیر کے زمرے میں آتا ہے جس میں بالکل کوئی نفع نہیں۔‘‘ انہوں نے فرمایا:
’’قبروں پر جو قبے اور گنبد وغیرہ بنائے جاتے ہیں اس کے بے شمار مفاسد ہیں۔‘‘[2]
[1] مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔‘‘ یہ روایت ’’الثمر المستطاب‘‘ (۱/۳۶۰) وغیرہ میں منقول ہے.
[2] پھر شیخ نے مقبرہ (قبرستان) میں نماز کی حرمت (۱/ ۳۶۴ اور بعد کے صفحات میں) کے بارے میں علماء کے اقوال ذکر کیے.