کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 766
(ص۲۱) میں صراحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہم نے جو بیان کیا اس نے تمہارے لیے ثابت کیا، اور اس میں سے جسے ہم نے ثابت کیا تمہارے لیے واضح کیا، کہ ان ادوار میں تحقیق کرنے والے کے لیے ہے کہ وہ حدیث کو صحیح، ضعیف اور حسن قرار دے، جیسا کہ اس سے پہلے کبارائمہ نے اسے کیا، بے شک تیرے رب کی عطاء (بخشش) کوئی رکی ہوئی نہیں، اور اس کی بے پایاں نواز شات و عنایات صرف سابقین تک محدود نہ تھیں…‘‘ یہ صنعانی بارھویں صدی کے علماء میں سے ہیں، میں گمان نہیں کرتا کہ شیخ، حافظ ابن حجر کے بعد کسی کے حفظ کا اعتقاد رکھتے ہوں، مگر یہ کہ ان کے شاگرد سخاوی یا سیوطی ہوں، جب صنعانی نے اس شخص کے لیے اجازت دے دی جس کے دور میں تصحیح و تضعیف ہو، اور تمام کا اعتراف ہے کہ اس میں کوئی حافظ نہیں، تو ان کا کلام شیخ کی شرط کے بطلان پر واضح دلیل ہے، جس سے مقصود ثابت ہوتا ہے، اللہ اس پر رحم فرمائے جو بحث و مباحثہ اور اصرار چھوڑ دے۔ جب علم حدیث میں مقام و مرتبہ رکھنے والے کے لیے حدیث کی تصحیح کا جواز ثابت ہوا، تو اس کے لیے ضعیف قرار دینا بھی جائز ہوا، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں، بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ بالاولی ہو، کیونکہ اس میں تصحیح المصطلح میں بیان کردہ تمام علل کے نہ ہونے کا علم ہونا ضروری ہے، جبکہ تضعیف میں علت قادحہ پر واقفیت ہی کافی ہے … آپ رحمہ اللہ نے مصدر مذکور (ص۶۰) میں ان کلمات کے ساتھ اپنی بحث کو ختم کیا: حقیقت یہ ہے کہ علم حدیث میں غایتِ صحیح کی دیگر سے معرفت ہے، جیسا کہ عز الدین بن جماعہ نے بیان کیا، اورکہا: ’’علم حدیث قوانین کا علم ہے، اس کے ذریعے سند و متن کے احوال جانے جاتے ہیں، اس کا موضوع سند اور متن ہے، اور اس کی غایت صحیح کی دیگر سے معرفت ہے۔‘‘[1] وہ شرط جسے اس شیخ نے ایجاد کیا وہ اس عظیم غایت کو ختم کر دیتی ہے، کیونکہ کتب السنۃ میں تحقیق کرنے والے کو بہت ہی زیادہ احادیث کے بارے میں پتہ نہیں چلتا ہے کہ ان کی تصحیح یا تضعیف کے بارے کس نے کہا ہے، اس وقت تصحیح وتضعیف سے اس علم شریف کی معرفت رکھنے والے سے توقف اس ضمن سے ہے کہ اس کا نتیجہ علم حدیث کی غایت کو چھوڑ دینے کی صورت میں نکلتا ہے جیسا کہ واضح ہے مخفی نہیں۔ جو یہ کہتا ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کہتا ہے کہ اصول فقہ کی معرفت رکھنے والے شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسی مصیبت و حادثے کے بارے میں فتویٰ دے جس کے بارے میں پہلے کوئی فتویٰ جاری نہ ہوا
[1] قواعد التحدیث لقاسمی (۵۱)۔ (منہ).