کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 765
ابوالحسن بن قطان، ضیاء مقدسی، ابن مواق، منذری، دمیاطی، مزی اور تقی سبکی و غیرھم، اور ابن حجر نے اس بارے میں اپنی ’’نکت‘‘ میں ابن الصلاح کے ساتھ طویل مناقشہ کیا ہے۔‘‘ حافظ ابن کثیر نے ’’اختصار علوم الحدیث‘‘ (ص۲۹) میں بیان کیا جس کا خلاصہ یہ ہے: ’’اس کام میں ماہر شخص کے لیے المسانید، المعاجم، الفوائد اور الاجزاء میں وارد بہت سی احادیث پر صحیح ہونے کا حکم لگانے پر اقدام جائز ہے، خواہ اس سے پہلے کسی حافظ نے اس کی صحت پر صراحت نہ کی ہو، اس موقف میں وہ شیخ نووی سے موافقت رکھتے ہیں جبکہ شیخ ابو عمرو (یعنی: ابن الصلاح) کے موقف کے خلاف ہیں، اور شیخ احمد شاکر نے اس پر ان الفاظ سے تبصرہ کیا ہے: ’’عراقی ودیگر نے ابن الصلاح کے اس قول کو رد کیا ہے، اور انہوں نے اس شخص کے لیے اجازت دی ہے جو مقام و مرتبے والا ہو اور اس کی معرفت قوی ہو، کہ وہ حدیث پر اس کی اسناد اور اس کی علل کی تحقیق کے بعد، صحیح یا ضعیف ہونے کا حکم لگا سکتا ہو۔ اور یہی درست ہے، اور جو میں سمجھتا ہوں کہ ابن الصلاح کا جو موقف ہے اس کی بنا اس قول پر ہے کہ ائمہ کے بعد اجتہاد منع ہے، جیسا کہ انہوں نے فقہ میں اجتہاد پر پابندی لگا دی، ابن الصلاح نے ارادہ کیا کہ وہ حدیث میں اجتہاد روک دیں جبکہ وہ ناممکن ہے، لہٰذا اجتہاد کی ممانعت کے بارے میں قول باطل ہے، کتاب وسنت سے اس پر کوئی دلیل نہیں، اور تم اس کے لیے دلیل سے ملتی جلتی چیز بھی نہیں پاؤ گے۔‘‘ میں کہتا ہوں: ان تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ حدیث کو صحیح اور ضعیف قرار دینے والے کے لیے بس ایک ہی شرط ہے کہ وہ علم حدیث میں مقام و مرتبہ رکھتا ہو، اور وہ اس کی علل اور اس کے راویوں کی معرفت رکھتا ہو، ان میں سے کسی ایک نے … خواہ اشارۃً ہو … اس شرط سے تعرض نہیں کیا جس کا شیخ نے دعویٰ کیا ہے، تو اس نے اس پر دلالت کی کہ شرط ساقط الاعتبار ہے، اور یہ کہ شیخ ایسی اشیاء کا دعوی کرتے ہیں جن کی ’’المصطلح‘‘ میں کوئی حیثیت نہیں، کاش کہ وہ اسی پر اکتفا کرتے، بلکہ وہ اس کو علم المصطلح سے جوڑتے ہیں، اور اس کی مخالفت کرنے والے کو جاہل قرار دیتے ہیں! جو عاقل اس شرط کے بطلان پر دلالت کرتا ہے کہ شیخ سے پہلے کسی نے اس کے متعلق نہیں کہا، سارے اسلامی ممالک میں علماء کااس کے خلاف عمل جاری رہا ہے، جیسے کتاب ’’تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ‘‘ کے مؤلف ابن عراق، ’’ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر‘‘ کے مؤلف عبدالرؤف مناوی، بہت سی کتب نافعہ کے مولف ابو الحسنات لکھنوی ہندی، ’’ فیض الباری علی صحیح البخاری‘‘ کے مؤلف شیخ انور کاشمیری، صنعانی، شوکانی، اور ان کے علاوہ تمام ممالک میں اس قدر زیادہ ہیں جو گنتی سے باہر ہیں، ہمارا جو موقف ہے اس کی امام صنعانی نے اپنے رسالے ’’ إرشاد النقاد إلی تیسیر الاجتھاد‘‘