کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 764
سے رہ گیا جو اتقان و تحقیق پر اولین حفاظ کی مدد کرتا تھا، بلکہ بسا اوقات وہ اس کے ذریعے ان میں سے بعض کی کمی کو دور کرتا ہے جیسا کہ ہم اسے دور حاضر کے محققین کی بحثوں میں دیکھتے ہیں جیسے شیخ احمد شاکر مصری اور ان جیسے علمائے ہند۔ بارک اللہ فیھم لیکن ان کلمات میں یہ نہیں جو اس پر دلالت کرتا ہو کہ تصحیح و تضعیف حافظ ہی کی ذمہ داری ہے، رہا شیخ کا اس پر استدلال جسے انہوں نے بلقینی (ص۳۶) سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: ’’تحقیق کرنے والے کے نزدیک صحیح و ضعیف کے درمیان حسن ہے، حافظ کے بارے میں کوئی چیز قدح کرتی ہے۔ شیخ نے کہا: اس میں جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں، حسن قرار دینے میں حفظ کی شرط ہے اور یہ کہ وہ حافظ کے خصائص میں سے ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں: اس عبارت سے فہم شرطیہ اس ضمن میں سے ہے کہ ہم اس سلسلے میں شیخ پر رشک نہیں کرتے، اس لیے کہ اس (عبارت) میں حافظ کا ذکر احترازی قید نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ تو کبھی اس ذات میں بھی قدح کرتا ہے جو کہ ’’حافظ‘‘ سے کم درجے کا ہے، جیسے ’’محدث‘‘ مثلاً، اور وہ اس میں سے جسے العلل، الوفیات اور الاسانید کے بارے میں گفتگو کا حق حاصل ہے جیسا کہ سبکی نے بیان کیا، [1] اور ان کی تائید ہوتی ہے کہ کسی عالم نے ’’التصحیح‘‘ میں ’’الحافظ‘‘ کی شرطیت کی تصریح نہیں کی جیسا کہ شیخ نے کہا ہے، ان سب نے اس میں جو شرط قائم کی ہے وہ معرفت و اہلیت ہے، اور اسے شیخ نے خود نووی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ’’التصحیح‘‘ کے بارے میں بیان کیا: ’’میرے نزدیک تو جو شخص مقام و مرتبہ اور قوی معرفت والا ہو اس کے لیے اس کا جواز ظاہر ہے۔‘‘ اسی کی مثل سیوطی کا قول ’’التنقیح فی مسألۃ التصحیح‘‘ رسالے میں ہے: شیخ ابن الصلاح نے ذکر کیا کہ ان زمانوں میں باب التصحیح بند ہو چکا ہے، نووی اوران کے بعد حافظ ابن حجر تک آنے والے تمام حفاظ نے ان کی مخالفت کی، اور انہوں نے ابن الصلاح پر ان کے اس مقالے پر اعتراض کیا، اور التصحیح کو جائز قرار دیا، اور یہ کہ وہ اس کی اہلیت رکھنے والے سے ختم ہوتی ہے نہ روکی گئی ہے، پھر ان میں سے جس نے ابن الصلاح کا کلام رد کیا کہ انہوں نے جو کہا ہے وہ سلف میں سے کسی نے نہیں کہا اور ان میں سے جس نے ان کا رد کیا کہ وہ زمانے کے کسی مجتہد سے خالی ہونے کے جواز کے قول پر مبنی ہے، جبکہ وہ قول ساقط ومردود ہے، اور ان میں سے کسی نے ان کا رد کیا کہ ابن الصلاح کے دور میں اور اس کے بعد اہل الحدیث (محدثین) نے تصحیح کا عمل جاری رکھا، انہوں نے ان احادیث کو صحیح قرار دیا جن کی تصحیح پہلے کسی نے نہیں کی جیسے
[1] ’’التدریب‘‘ (ص۶) دیکھیں، اور اس بارے میں ابن الجوزی کا قول (ص۹۹) اس کی تائید کرتا ہے۔ (منہ).