کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 763
تضعیف کس کے لیے جائز ہے! پھر فضیلۃ شیخ نے ’’من لہ حق التصحیح و التضعیف فی الحدیث، و من لیس لہ ذلک: و من ھو الحافظ‘‘ میں ’’خاتمہ‘‘ کا عنوان قائم کیا، اور دعویٰ کیا کہ ’’تصحیح و تضعیف ’’حافظ‘‘ کی ذمہ داری ہے اور اس کا اختصاص ہے کسی اور کا نہیں۔‘‘ پھر انہوں نے الحافظ کی تعریف میں بعض کلمات نقل کیے، اس کے باوجود یہ کلمات مختلف ہیں ’’الحافظ‘‘ کی جامع ومانع تعریف نہیں کرتے، بلکہ ان کا اختلاف اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں وسعت ہے، اور شیخ نے حافظ مزی سے جو نقل کیا وہ اس کی تائید کرتا ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں اہل عرف کی طرف رجوع کیا جائے گا، اگر ان کے درمیان کسی تعریف پر اتفاق ہوتا تو حافظ اہل عرف پر متوجہ نہ ہوتے، خاص طور پر جبکہ اس کا اعتراف کرنے والے کم ہیں، اور ابن سید الناس کا قول اس کی نقل ہے: ’’رہا وہ جو بعض متقدمین سے ان کا قول بیان کیا جاتا ہے: ’’ہم اسے صاحب حدیث شمار نہیں کرتے تھے جس نے املاء میں بیس ہزار احادیث نہ لکھی ہوں، ’’تو یہ ان کے زمانے کے حساب سے ہے۔‘‘ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ تعریفیں اپنے زمانوں کے ساتھ خاص ہیں اور ان کے بعد والوں کے لیے ان سے تمسک ضروری نہیں، اور معاملہ کوئی بھی ہو یہ کلمات مجموعی طور پر اس پر متفق ہیں کہ ’’حافظ‘‘ کا درجہ محدث کے ساتھ خاص درجات میں سے سب سے بلند درجہ ہے، اس لیے متاخرین میں کوئی نادر ہی اس درجے تک پہنچا ہو گا، شیخ احمد محمد شاکر نے ’’الباعث الحثیث‘‘ (ص۱۷۶) میں بیان کیا: ’’رہا حفظ تو اس کا اثر ختم ہو چکا اور وہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ پر ختم ہو گیا، پھر سخاوی اور سیوطی اس قریب ہیں کہ وہ دونوں حافظ ہوں پھر ان دونوں کے بعد کوئی باقی نہ رہا، اور کون جانتا ہے؟ ہو سکتا ہے امت اسلامیہ اپنی شان و شوکت کو دہرائے، اور وہ اپنے دین اور علوم کی طرف پلٹ آئے، غیب تو اللہ ہی جانتا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: (( بَدَأَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا وَ سَیَعُودُ غَرِیْبًا کَمَا بَدَأَ۔))[1] ’’اسلام کا آغاز اجنبیت سے ہوا اور عنقریب وہ اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا جیسا کہ شروع ہوا۔‘‘ میں کہتا ہوں: لیکن یہ علم السنۃ میں متخصص حضرات کو حفاظ کی اپنی مؤلفات اور ان کے دواوین کی مدد سے اس نقص کے روکنے سے منع نہیں کرتا، خاص طور پر جبکہ حدیث واحد کے متعلق ان کے اقوال اور بحثیں اور اس کے لیے انہوں نے جو طرق ذکر کیے ہوں جمع کر لیے جائیں، کیونکہ اس کے ذریعے وہ بدل طلب کرے گا جو اس سے حفظ
[1] اس کی تخریج ’’الصحیحۃ‘‘ (۱۲۷۳) میں دیکھیں.