کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 760
اور مجلہ ’’الاصالۃ‘‘ ۱۷: ۱۵ ذی الحجۃ ۱۴۱۶ھ (مسائل و اجوبتھا) (ص۷۱): شیخ کی خدمت میں سوال پیش کیا گیا:
سوال: مسلمان نوجوانوں کی طرف سے بہت ساری کیسٹیں مروج ہیں ان میں وہ اشعار ہیں جنہیں اسلامی اشعار کا نام دیا جاتا ہے، تو اس مسئلہ میں درست بات کیا ہے؟
جواب: جب یہ اشعار موسیقی اور آلات موسیقی سے خالی ہوں تو میں صراحت سے کہتا ہوں کہ ان میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ شریعت کے خلاف ورزی سے محفوظ ہوں، جیسے غیر اللہ سے مدد طلب کرنا، مخلوق کو وسیلہ بنانا، اور اسی طرح اسے عادت بنانا بھی جائز نہیں، کیونکہ یہ مسلمان نوجوانوں کو اپنے رب کی کتاب کی تلاوت اور اس پر غور و فکر سے دور کر دیتے ہیں، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں ترغیب دی ہے ان میں سے ایک حدیث یہ ہے:
(( مَنْ لَّمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْاٰنِ فَلَیْسَ مِنَّا۔))
’’ جو اچھی آواز کے ساتھ قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
اور جو صحابہ کے احوال پر غور و فکر کرتا ہے وہ ان کی زندگی میں اس طرح کے اشعار نہیں پائے گا، وہ حقائق پسند آدمی تھے، اور وہ صرف تسلی پسند آدمی نہیں تھے۔