کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 758
بات کی ہے: برئنا الی اللہ من معشر بھم مرض من سماع الغنا ’’ہم ان کے ساتھ گیتوں کے سماع کے مرض میں اکٹھے ہونے سے اللہ کے حضور برائت کا اعلان کرتے ہیں ۔‘‘ و کم قلت: یا قوم انتم علی شفا جرف ما بہ من بنا ’’اور میں نے کتنی بار کہا: اے میری قوم! تم بالکل ایک بے بنیاد کھوکھلے کنارے پر ہو۔‘‘ شــفــا جــرف تــحــت ھــوۃ الی درک کم بہ من عَنا ’’وہ ایک روشن دان کے نیچے کھوکھلے گڑھے کے کنارے پر ہے۔ وہاں پہنچ کر کتنی تکلیف اٹھانا ہے۔‘‘ و تکرار فی النصح منا لھم لنعذر فیھم الی ربنا ’’ہماری طرف سے انہیں جو بار بار نصیحت کرنا ہے وہ اس لیے ہے کہ ہم ان کے متعلق اپنے رب کے سامنے عذر پیش کر سکیں۔‘‘ فلما استھانوا بتنبیھنا رجعنا الی اللہ فی امرنا ’’جب انہوں نے ہماری طرف سے کی جانے والی تنبیہ کو کوئی اہمیت نہ دی، تو ہم نے اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کردیا۔‘‘ فعشنا علی سنۃ المصطفی و ماتوا علی تنتنا تنتنا ’’ہم تو سنت مصطفی پر زندہ رہے۔ جب کہ وہ ’’تنتنا تنتنا‘‘ (موسیقی کی دھن) پر مرے۔‘‘ انہوں نے آخر میں بعض مسلمان نوجوانوں کو ان اشعار میں موجود ان منکرات اور شریعت اسلامیہ سے انحرافات سے آگاہ کیا، انہوں نے ان سے دوسرے اشعار کی طرف لگایا جو اسلامی شہ زوروں، بہادروں کے متعلق تذکیر اور قوت و جوش و جذبے سے خالی نہیں، لیکن وہ بعض اوقات ان میں بھی موسیقی کی سُروں کی پابندی کرتے