کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 757
اعادہ کی ضرورت نہیں۔[1]
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’بدایۃ السول‘‘ (ص۹۔۱۲) کی اپنی تحقیق کے مقدمے میں بیان کیا:
جب تم نے جان لیا… کہ اللہ کی محبت صرف اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی سے حاصل ہوتی ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کی ہر ممکن کوشش کرو، اس راہ میں اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دو، اور جعلی صوفیوں، گمراہوں اور فریب خوردہ لوگوں سے دھوکا نہ کھاؤ، جنہوں نے اپنے دین کو لہب و لعب اور اشعار و گیت بنا لیا، وہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ اس کے ذریعے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرتے ہیں جن کو وہ دینی اشعار کا نام دیتے ہیں، وہ اپنے اذکار و اجتماعات میں انہیں کثرت سے پڑھتے ہیں جنہیں وہ اپنے بعض بدعتی تہواروں میں منعقد کرتے ہیں، جیسے عید میلاد اور اس طرح کے تہوار۔ اللہ کی قسم! وہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں، اور حق سے ہٹے ہوئے ہیں، کس طرح نہیں جبکہ انہوں نے دینِ حق کو لہو باطل کے ساتھ خلط ملط کر دیا، اور انہوں نے گویّوں اور دیوانوں کی ان کے نغمات موسیقی میں تقلید کی، اور وہ دلوں کو مردہ کر دینے والے، اللہ کے ذکر اور تلاوت قرآن سے روکنے والے ان کے طریقوں کی پابندی کرتے ہیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ‘‘ ’’جو اچھی آواز سے جہر کے ساتھ قرآن نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں‘‘ جبکہ وہ اس کے ساتھ بعض آلات موسیقی کا اضافہ کرتے ہیں،یا ہاتھوں کے ساتھ تالیاں بجاتے ہیں تا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مشابہت مکمل ہو جائے، لوگوں کو ذکر یا دینی اشعار کے نام سے خوش کرنے کے لیے! [2] عربی نشریات کے علاوہ بعض غیر ملکی/ اجنبی نشریات نے اسے نشر کیا۔
افسوس کی بات ہے کہ بعض اسلامی نشریات والوں نے بھی ان کے برابر آغاز کر دیا ہے، واللّٰہ المستعان۔
مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض ٹیلیویژن اسٹیشنوں نے ان میں سے کچھ اس طور پر پیش کیا ہے کہ گویا وہ اسلام ہے جس کی طرف وہ دعوت دیتا ہے جن کا حنفاء مسلمان ہونے کا طرہ امتیاز ہے۔
میں بھولنا بھی چاہوں تو بھول نہیں سکتا کہ میں کسی اسلامی جماعت کے کسی مرکز میں گیا، کہ میں نے اچانک اذان کے لیے آلۂ موسیقی کے ساتھ سُر کی آواز سنی، میں نے اسی خبر کے متعلق پوچھا؟ تو مجھے بتایا گیا: یہ بعض اسلامی ملکوں کے بعض مسلمان نوجوان ہیں، وہ یہاں مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں، ان میں سے ایک ان کوموسیقی کی سر کے ساتھ اذان سناتا ہے، اور یہ اس ضمن سے ہے جسے آج ہم بہت سے اسلامی نشریاتی اداروں سے سنتے ہیں، ابن القیم رحمہ اللہ نے اس مناسبت سے ’’اغاثۃ اللھفان من مصائد الشیطان‘‘ (۱/۲۲۶) میں کیا خوب
[1] ’’الضعیفۃ‘‘ (۲/۴۹۔۵۰) دیکھیں۔ یہ وہی ہے جسے ہم نے ابھی نقل کیا.
[2] ہمارے شیخ نے ’’مختصر الشمائل‘‘ (ص۱۷۵) میں دینی اشعار کی طرف اشارہ کیا.