کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 744
اور ان میں سے امام شاطبی رحمہ اللہ ہیں۔ صوفیت کی طرف منسوب لوگوں کی طرف سے انہیں سوال کیا گیا: وہ اکٹھے ہو کر یک آواز ہو کر بلند آواز سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں، پھر وہ گانے گاتے اور رقص کرتے ہیں؟ انہوں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: [1] ’’یہ سب بدعات محدثات میں سے ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور آپ کے اصحاب اور تابعین کے طریقے کے خلاف ہے، اللہ اس (فتوے) کے ذریعے اپنی مخلوق میں سے اپنی مشیئت کے مطابق فائدہ پہنچائے۔‘‘ پھر انہوں نے ذکر کیا جب وہ جواب ان علاقوں تک پہنچا توان بدعات پر عمل کرنے والوں پر قیامت واقع ہو گئی، انہیں اپنے طریقے کے مٹ جانے اور اس سے ان کی روزی ختم ہو جانے کا خطرہ محسوس ہوا، تو انہوں نے وقت کے بعض شیوخ کے فتاویٰ کا سہارا لینے کی کوشش کی وہ ان کی بدعت کو صالح قرار دینے کے لیے اس (فتویٰ) کا ناجائز استعمال کرنے لگے، تو شاطبی نے ان کی تردید کی، اور بیان کیا کہ وہ ان کے خلاف حجت ہے۔ اور انہوں نے اس بارے میں تقریباً تیس صفحات (۳۵۸۔۳۸۸) پر مشتمل مفصل کلام پیش کیا، جو تفصیل چاہتا ہے وہ اس کی طرف رجوع کرے۔ انہوں نے اس سے پہلے وہ اصول و ماخذ بیان کیے جن کا بدعتی اور گمراہ سہارا لیتے ہیں، اور انہوں نے ان کے بطلان اور شرع سے ان کی مخالفت کے متعلق اطمینان بخش جواب دیا، میں نے سوچا کہ میں اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کروں، اس لیے کہ علماء اصول نے اس کے بیان میں تفصیل پیش نہیں کی، جیسا کہ آپ رحمہ اللہ نے (۱/۲۹۷) بذات خود بیان کیا، اسے حاشیے [2] میں دیکھ لیں!
[1] وہ العلامہ المحقق ابراہیم بن موسی اللخمی ابو اسحاق الغرناطی ہیں، جلیل و نفیس کتابوں کے مؤلف ہیں۔ ۷۹۰ھ میں وفات پائی۔ (منہ) میں کہتا ہوں: انہوں نے اسے اپنی کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں بیان کیا ہے، اور اس کے متعلق خصوصی طور پر ان کا ’’الفتاوی‘‘ (ص۱۹۳۔۱۹۷) میں ایک فتوی ہے، اگر آپ چاہیں تو اس کا مطالعہ کر لیں. [2] (۱)… ان کا سہارا ضعیف احادیث اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیان کردہ جھوٹ پر ہے، ۔۔۔ اور ضعیف احادیث ظن پر غالب نہیں آ سکتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا ہے: پس ان کی طرف حکم کی نسبت کرنا ممکن نہیں، تو آپ کا ان احادیث کے متعلق کیا گمان ہے جو کذب کے حوالے سے معروف ہیں؟! (ص۲۹۹۔۳۰۰)۔ (منہ) (۲)… ان کا ان صحیح احادیث کو رد کر دینا جو ان کی اغراض کے موافق نہیں، اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ عقل کے خلاف ہیں، جیسا کہ عذاب قبر، پل صراط، میزان (ترازو) اور آخرت میں اللہ کے دیدار کا انکار کرنے والے ہیں۔۔۔ (ص۳۰۹)۔ (منہ) (۳)… قرآن و سنت جو کہ دونوں عربی زبان میں ہیں ان کا عربی علم نہ جاننے کے باوجود ان دونوں کے متعلق کلام و اعتراض کرنے کی جسارت کرنا جو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سمجھا جاتا ہے، وہ شریعت کے خلاف مسلسل بات کرتے رہتے ہیں اور علم میں راسخ افراد کی مخالفت کرتے ہیں۔ (منہ) (۴) (ص ۳۳۰) ان کا ان متشابہات کی اتباع میں، جن میں عقل کی رسائی نہیں، واضح اصول سے انحراف کیا۔ (منہ) (۵)… (ص۳۲۹) ان کا ان مطلقات کو ان کی مقیدات پر غور و فکر سے پہلے اخذ کرنا اور ان پر عمل کرنا، عمومات پر یہ غور کیے بغیر عمل کرنا کہ کیا ان کے لیے کوئی تخصیص کرنے والے امور ہیں یا نہیں؟ اسی طرح اس کے برعکس، یہ کہ نص مقید ہو تو اسے مطلق بنا دینا، یا خاص ہو تو اسے بلا دلیل صرف رائے سے عام بنا دینا … (منہ) میں کہتا ہوں: پھر امام شاطبی رحمہ اللہ نے اس پر بعض مقید مفید علمی مثالیں پیش کی ہیں، اور ابن القیم نے عکس مذکور کو صوفیاء کے گانوں کو مباح قرار دینے میں جو غلطی ہے اسے اصل قرار دیا ہے، مذکورہ بالا کتاب کا (ص۳۶۰) دیکھیں، اس غلطی کے مثل معاصر غزالی نے موسیقی کومباح قرار دیا ہے۔ ’’السنۃ النبویۃ‘‘ (ص۷۰) دیکھیں۔ (۶)… (ص۳۳۴): دلائل کو ان کی جگہوں سے بدل دینا، یہ کہ دلیل کسی مقصد کے لیے وارد ہوتی ہے تو وہ اسے کسی اور مقصد کی طرف بدل دیتے ہیں اور یہ وہم پیدا کرتے ہیں کہ دونوں کا مقصد ایک ہے! اور وہ ان کے کلمات کو ان کی جگہوں سے بدلنے کی مخفی امور میں سے ہے والعیاذ باللّٰہ، اور وہ ظن پر غالب آتا ہے کہ جس نے اسلام کا اقرار کیا، اور وہ کلمات کو ان کی جگہوں سے بدلنے کی مذمت کرتا ہے، وہ صراحت کے ساتھ ادھر نہیں جاتا بلکہ اشتباہ کے ساتھ جو اسے پیش آتا ہے، یا جہل کے ساتھ جو اسے حق سے روکتا ہے، گمراہی کے ساتھ جو اسے دلیل کو اس کے ماخذ سے لینے سے اندھا بنا دیتی ہے، تو وہ اس وجہ سے بدعتی بن جاتا ہے۔ (منہ) (۷)… (ص۳۴۸): اپنے شیوخ کی تعظیم میں سرفروشی، حتی کہ انہوں نے ان کووہاں تک پہنچا دیا جس کا وہ استحقاق نہیں رکھتے، ان میں سے جو اعتدال پسند ہے وہ زعم رکھتا ہے کہ فلاں سے بڑھ کر کوئی اللہ کا ولی نہیں، بسا اوقات تو انہوں نے اس مذکور (ولی) کے بغیر باقی ساری امت پر ولایت کا دروازہ بند کر دیا، جبکہ وہ باطل محض ہے۔۔ (ص:۳۴۹): اور ان میں سے جو میانہ رو ہے وہ زعم رکھتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مساوی ہے مگر یہ کہ اس پر وحی نہیں آتی! (منہ) .