کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 740
کسی خاص کے لیے۔‘‘ پھر شیخ نے (ص۵۷۳۔۵۷۶) میں فرمایا: ’’جو شخص دین کے حقائق، دلوں کے احوال و معارف اور اس کے ذوق ووجدان سے واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ سیٹیوں اور تالیوں کا سننا دلوں کے لیے کسی منفعت کا باعث ہے نہ کسی مصلحت کا، مگر اس میں جو ضرر اور بگاڑ ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے، وہ روح کے لیے اس طرح ہے جیسے جسم کے لیے شراب، وہ نفوس میں اسی طرح اثر انداز ہوتی ہے جس طرح جام شراب۔ اسی لیے اسے سننے والے شراب کے نشے سے زیادہ مدہوش ہوتے ہیں، وہ بلا تمیز لذت پاتے ہیں، جیسا کہ شراب نوش پاتا ہے، بلکہ انہیں اس سے زیادہ اور بڑا نشہ حاصل ہوتا ہے جو کسی شراب نوش کو حاصل ہوتا ہے جو شراب انہیں جس سے روکتی ہے، اور انہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے اس سے کہیں بڑھ کر روکتی ہے اور وہ ان کے درمیان شراب سے بڑھ کر عداوت اور بغض پیدا کرتی ہے، حتی کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائے بغیر قتل کر دیتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ جو شیاطین ان کے ساتھ ہوتے ہیں، بے شک اس حال میں جبکہ ان پر شیاطین نازل ہوتے ہیں تو انہیں شیطانی احوال حاصل ہوتے ہیں، وہ ان کی زبانی کلام کرتے ہیں جس طرح جن اس مجنون کی زبانی کلام کرتا ہے، یا تو ایسے کلام کے ساتھ جو عجمیوں کے کلام کی جنس سے ہے، جو ان کا کلام نہیں سمجھتے، جیسے ترکی یا فارسی زبان، یا ان کے علاوہ، اور وہ انسان جس پر شیطان کا حملہ ہوتا ہے اجنبی ہو جاتا ہے وہ اسے اچھی طرح بول نہیں سکتا، بلکہ وہ کلام اس کے کلام کی جنس سے ہو جاتا ہے جو وہ شیاطین ان کے بھائیوں سے ہوتے ہیں، یا تو ایسے کلام کے ساتھ جس کا معنی عقل و فہم میں نہ آتا ہو، اور اسے صرف اہل مکاشفہ ہی پہچانتے ہیں: ظاہر اور آنکھوں کے سامنے ہوجانے سے۔[1]
[1] تنبیہ: بعض معاصرین نے انسان کو شیطان کے حقیقی طور پر مس کرنے، اس کے انسان کے بدن داخل ہونے اور اسے مجنون بنا دینے کے عقیدے کا انکار کیا ہے، اور ان میں سے بعض نے اس بارے میں بعض تالیفات تصنیف کی ہیں، انہوں نے اس میں لوگوں کو دھوکا دیا ہے، اور ان میں سے جس نے سب سے بڑھ کر حصہ لیا وہ صحیح احادیث کو ضعیف قرار دینے والا ہے، اس نے اسے اپنی کتاب میں ذکر کیا جس کا نام ’’الاسطورۃ‘‘ رکھا! اور اس نے اپنی عادت کے مطابق اس بارے میں جو صحیح احادیث آئی ہیں انہیں ضعیف قرار دیا، اس نے اور دیگر نے معتزلہ کی تاویلات کا سہارا لیا ہے، جبکہ دوسرے بہت دور نکل گئے، انہوں نے اس صحیح عقیدے سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے، اور اس کے ساتھ ایسی چیز کو ملا دیا جو اس کا حصہ ہے نہ حقیقت پر مبنی ہے، اور انہوں نے اس کے ساتھ اس کا انکار کرنے والوں کی مدد کی! اور انہوں نے اپنے زعم کے مطابق اسے اپنے آس پاس کے تمام لوگوں کے سینوں سے جن نکالنے کا وسیلہ بنا لیا، اور اسے ناحق طور پر لوگوں کے مال کھانے کا پیشہ بنا لیا، حتی کہ ان میں سے بعض تو بڑے مال دار بن گئے، جبکہ حق ان باطل پرستوں اور منکروں کے درمیان ضائع ہونے والا ہے، میں نے ’’الصحیحۃ‘‘ کی چھٹی جلد میں ان سب کی تردید کی ہے، اور میں نے اس میں بعض صحیح احادیث نقل کی ہیں جو مس حقیقی (جنوں کے چھونے) کی تائید کرتی ہیں، دیکھیں رقم (۲۹۱۸)۔ (منہ).