کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 739
اور انہوں نے فرمایا: جب تم ان میں سے کسی شخص کو کسی راستے میں دیکھو تو تم دوسرا راستہ اختیار کر لو[1] ’’تغبیر‘‘: ایسے اشعارجو دنیا سے بے رغبت کرتے ہیں، کوئی گانے والا انہیں گاتا ہے، اوربعض حاضرین اس کے گانے کی داد دیتے ہوئے چمڑے پر یا تکیے پر چھڑی مارتے ہیں، جیسا کہ ابن القیم ودیگر نے بیان کیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’المجموع‘‘ (۱۱/۵۷۰) میں بیان کیا:
’’اور جو شافعی ’’اللہ ان پر راضی ہو‘‘ نے ذکر کیا کہ وہ زندیقوں کا گھڑا ہوا ہے۔ وہ اصول اسلام سے باخبر امام کا کلام ہے، کیونکہ یہ جو سماع ہے اس میں صرف وہی رغبت رکھتا ہے اور اس کی طرف دعوت دیتا ہے جس پر اصل میں زندیق ہونے کی تہمت ہو! جیسے ابن الراوندی، الفارابی اور ابن سینا اور ان جیسے دیگر لوگ، جیسا کہ ابو عبدالرحمن السلمی نے ابن الراوندی [2] سے اسے ’’مسألۃ السماع‘‘ میں ذکر کیا، انہوں نے کہا:
’’فقہاء کا سماع میں اختلاف ہے، کچھ لوگوں نے اسے مباح قرار دیا ہے اور کچھ نے اسے مکروہ قرار دیا، میں اسے واجب قرار دیتا ہوں۔ یا اس نے کہا: میں اس کا حکم دیتا ہوں۔‘‘! پس اس نے اس کا حکم دینے میں علماء کے اجماع کی مخالفت کی۔
فارابی [3] موسیقی کا ماہر تھا، گلوکاروں کے ہاں اس فن میں اس کا ایک طریقہ ہے، ابن حمدان کے ساتھ اس کی حکایت مشہور ہے، جب اس نے بیان کیا تو انہیں رلایا، پھر انہیں ہنسایا، پھر انہیں سلادیا، پھر باہر نکل گیا!‘‘
اور انہوں نے (ص۵۶۵) کہا:
’’دین اسلام سے لازمی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے صالح و عابد اور زاہد افراد کے لیے مشروع نہیں کیا کہ وہ سُروں کے ساتھ اشعار سننے کے لیے اکٹھے ہوں جہاں تالی یا دف وغیرہ کا بھی استعمال و اہتمام ہو۔ جیسا کہ کسی کے لیے مباح نہیں کہ وہ آپ کی متابعت اور کتاب و حکمت کی تعلیمات کی اتباع سے نکل جائے، امر باطن میں نہ اس کے ظاہر میں، کسی عامی کے لیے نہ
[1] اسے بھی خلال نے اس کے طرق سے روایت کیا، اور جو اضافہ ہے وہ ’’مسألۃ السماع‘‘ (ص۱۲۴) سے ہے۔ (منہ).
[2] اس کا نام احمد بن یحییٰ بن اسحاق راوندی، ہے وہ مشہور زندیق ہے، حافظ نے ’’لسان المیزان‘‘ میں بیان کیا:
معتزلہ کے متعلق کلام کرنے والا وہ پہلا شخص تھا، پھر وہ زندیق بن گیا اور الحاد کے حوالے سے مشہور ہوا، اس نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں جن میں اسلام پر طعن کیا، شیخ نے اس کتاب یعنی: ’’المیزان‘‘ سے اس کی سوانح حیات کو حذف کر کے اچھا کیا، میں نے اس پر لعنت کرنے کے لیے اسے نقل کیا، اللہ اس پر لعنت کرے وہ ۲۹۸ھ میں فوت ہوا۔‘‘.
[3] اس کا نام محمد بن محمد بن طرخان الترکی ہے، اس کی سوانح حیات ’’شذرات الذھب‘‘ (۲/۳۵۰۔ ۳۵۴) میں تفصیل کے ساتھ ہے، اور وہ حکایت، جس کی طرف شیخ نے اشارہ کیا ہے، اس میں مذکور ہے، وہ افسانے کی طرح ہے، غزالی اور دیگر نے اس کی تکفیر کی ہے، اس نے ۳۳۹ھ میں وفات پائی ہے.