کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 738
جنہیں امام شاطبی رحمہ اللہ ’’اضافی بدعات‘‘ کانام دیتے ہیں، اور انہوں نے اپنی عظیم کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں ان کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ’’کل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ فی النار‘‘[1] (ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔) کے عموم میں داخل ہونا خوب ثابت کیا ہے۔ جب یہ معلوم ہو گیا، تو کسی ایسی چیز کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرنا جسے اس نے حرام قرار دیا ہے وہ بدرجہ اولیٰ حرام ہو گا، بلکہ وہ شدیدحرام ہو گا، اس لیے کہ اس میں اللہ کی شریعت کی خلاف ورزی ہے، اللہ نے ایسا کرنے والے کو ان الفاظ کے ساتھ دھمکی دی ہے: ﴿وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ (الانفال:۱۳) ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ مزید یہ کہ اس میں نصاریٰ وغیرہ کفار سے مشابہت ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَہْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا﴾ [الاعراف: ۵۱] ’’وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اور دنیوی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ اور مشرکوں سے مشابہت ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَ مَا کَانَ صَلَاتُہُمْ عِنْدَالْبَیْتِ اِلَّا مُکَآئً وَّ تَصْدِیَۃً﴾ (الانفال:۳۵) ’’بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا تھی۔‘‘ علماء کا کہنا ہے کہ مکاء سے مراد سیٹی بجانا جبکہ تصدیۃ سے مراد تالی بجانا ہے۔ [2] اسی لیے علماء نے ہر دور میں ان پر سخت اعتراض کیا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’میں نے عراق میں ایک چیز چھوڑی ہے جسے ’’التغبیر‘‘ (ذکر کے حلقوں میں خوش الحانی اور آلات موسیقی وغیرہ سے اشعار پڑھنا) کہا جاتا ہے، اسے زندیقوں نے جاری کیا، وہ لوگوں کو قرآن سے روکتے ہیں۔‘‘[3] اس کے متعلق احمد سے پوچھا گیا؟ تو انہوں نے فرمایا: ’’بدعت ہے۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا ہے اور اسے سننے سے منع فرمایا۔
[1] نسائی نے اور ابن خزیمہ نے اسے اپنی ’’صحیح‘‘ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ابن تیمیہ نے اسے کئی جگہوں پر صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیں میرا رسالہ: ’’خطبۃ الحاجۃ‘‘ (ص۳۷)۔ (منہ). [2] دیکھئے تفسیر ابن کثیر (۳/ ۳۰۶)، اغاثۃ اللہفان (۱/ ۲۴۴۔ ۲۴۵)۔ (منہ). [3] الخلال نے ’’الامر بالمعروف‘‘ (ص۳۶) میں اسے روایت کیا، ابو نعیم نے ’’الحلیۃ‘‘ (۹/۱۴۶) میں اور ابن الجوزی نے ان سے (ص۲۴۴۔۲۴۹) روایت کیا، اس کی اسناد صحیح ہیں، ابن القیم نے ’’الاغاثۃ‘‘ (۱/۲۲۹) میں ذکرکیا، کہ وہ شافعی سے متواتر ہے۔ پھر انہوں نے تغبیرکی وہ تفسیر کی جو میں نے اوپر ذکر کی ہے۔ (منہ).