کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 727
۴: عید کی دو راتوں کو اس زعم سے قیام و عبادت کے لیے مخصوص کر لینا کہ ان دو راتوں کی عبادت دیگر راتوں کی عبادت سے افضل ہے
’’الثمر المستطاب‘‘ (۲/۵۷۷)
۵: عید کے دو دنوں کو اس زعم سے قبروں کی زیارت کے لیے مخصوص کر لینا کہ ان دنوں میں قبروں کی زیارت کرنا ان کے علاوہ دیگر دنوں میں زیارت کرنے سے افضل ہے
’’الثمر المستطاب‘‘ (۲/ ۵۷۷)
۶: معراج کی شب تقریب اور جلسے وغیرہ کا اہتمام
علامہ ابن دحیہ نے اپنی کتاب ’’اداء ما وجب من بیان وضع الوضاعین فی رجب‘‘(ص۵۳۔۵۴) میں بیان کیا:
بعض قصہ گو حضرات نے ذکر کیا کہ واقعہ معراج رجب میں ہوا تھا، [1] جبکہ جرح و تعدیل والوں کے ہاں یہ عین کذب ہے، امام ابو اسحاق حربی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ۲۷ ربیع الاوّل کی شب کو معراج کرائی گئی کہ اس بارے میں جواختلاف ہے اور جو حجت لی گئی ہے اسے ہم نے اپنی کتاب ’’الابتھاج فی احادیث المعراج‘‘[2] میں ذکر کیا ہے۔
[1] ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’اداء ما وجب…‘‘ (ص۵۳) کے حاشیے میں بیان کیا:
حافظ ابن حجر نے اسے مصنف سے اپنے رسالے ’’تبیین العجب فیما ورد فی رجب‘‘ (صفحہ:۳) میں نقل کیا اور اسے تسلیم کیا، بلکہ اسے ہر ممکن ذریعے سے اور ہر مناسبت سے لوگوں کے لیے بیان کرنا واجب ہے، واللّٰہ المستعان۔
میں کہتا ہوں: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رجب میں شب معراج منانا کذب پر اعتماد کرنا ہے، جو کہ ان دونوں جلیل القدر حفاظ کی گواہی سے ثابت ہے (وہ دونوں: حافظ ابن دحیہ اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ ہیں) بعد کے زمانوں میں جو مشہور ہوا ہے کہ یہ ستائیس رجب کو تھی کسی کو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔
مزید یہ کہ یہ مذکورہ تقریب مذکور اپنی اصل کے حوالے سے غیر مشروع ہے، اس لیے کہ وہ ایک نیا کام ہے، باقی تہواروں اور یادگاروں کی طرح اس پر سلف کا عمل نہیں رہا، خواہ وہ خوشی کے حوالے سے ہو یا غمی کے حوالے سے، لہٰذا اس کی ترویج جائز نہیں، خواہ وہ کسی بھی وسیلے سے ہو جیسے ماہ رجب میں اس رات کے متعلق تقریر و تحریر، خاص طور پر ستائیس تاریخ کو، کیونکہ اس میں گمراہ کرنا اور کذب کی تائید ہے جس سے لوگوں کو تاثر دیا جاتا ہے کہ معراج رجب میں ہوئی تھی، اور یہ کہ اس کو منانا مشروع ہے.
[2] ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’اداء ما وجب…‘‘ (ص۵۴) کے حاشیے میں بیان کیا: سیوطی نے ان اقوال کو جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے‘‘ الآیۃ الکبری فی شرح قصۃ الاسراء‘‘ (ص۳۴) میں اور علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ (۴/۴۶۹) میں ذکرکیا، وہ پندرہ اقوال ہیں، لیکن ان میں کوئی ایک قول خبر صحابی تک مسند نہیں جس سے اطمینان حاصل ہوتا ہو، اسی لیے اس بارے میں ایک عالم کے اقوال مختلف ہیں، نووی رحمہ اللہ کے اس بارے میں تین اقوال ہیں انہوں نے ان اقوال کو ان سے بیان کیا ہے، ان میں سے ایک اسی کتاب میں الحربی کے قول کے مثل ہے، نووی نے بھی اسے اپنے ’’الفتاوی‘‘ (ص۱۵)! میں جزم کے ساتھ کہا ہے، عقل مند شخص سمجھ سکتا ہے کہ سلف اس رات میں تقریبات برپا نہیں کرتے تھے، وہ اسے رجب میں عید/میلہ بناتے تھے نہ اس کے علاوہ کسی اور میں، اگر انہوں نے اسے منایا ہوتا جیسا کہ خلف آج کرتے ہیں، تو یہ ان سے تواتر سے ثابت ہوتا، اور خلف کے ہاں اس رات کا تعین ہو گیا ہوتا اور انہوں نے یہ عجیب و غریب اختلاف نہ کیا ہوتا، میں کہتا ہوں: کتاب ’’الابتھاج‘‘ نئی نئی چھپی ہے، اس میں معراج کی تاریخ ہے (ص۶۔۸).