کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 717
’’بے شک وہ مشہور دعا یعنی نصف شعبان کی شب میں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مسند ہے نہ آپ کے کسی صحابی کی طرف، وہ تو محض بعض لوگوں کا کلام ہے، انہوں نے کہا: ’’شیخ حوت نے اسنی المطالب فی احادیث مختلفۃ المراتب ص۲۷) میں صراحت کی کہ: یہ دعا مشائخ میں سے کسی شیخ نے اپنی طرف سے ترتیب دی ہے، کہا گیا: وہ البونی ہے۔‘‘[1]
[1] وہ خرافات اور شعبدہ بازی کی کتاب ’’شمس المعارف الکبری‘‘ کامؤلف ہے،اس کے متعلق میری کتاب ’’کتب حذر منھا العلماء‘‘ (۱/۱۲۴،۱۴۳) دیکھیں۔ اور مخصوص دعا یہ ہے: ((اللھم یا ذا المن، ولا یمن علیہ یا ذا الجلال و الاکرام…)) ’’الاحیاء‘‘ کے شارح نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسی دعا ہے کہ اس کی کوئی اصل ہے نہ مستند، میرا رسالہ ’’حسن البیان‘‘ (ص۱۳) دیکھیں.