کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 715
ان کے ہم نواؤں کو اس دعویٰ –– اعداد کثیرہ میں تسبیح کی فضیلت–– پر ان کے اس زیادہ تعداد کی پابندی نے ابھارا جو سنت میں وارد نہیں، [1] جیسا کہ ان میں سے بعض کا بدعی درود کے بعض الفاظ میں مشہور عدد کی پابندی ہے اور وہ عدد ہے: ۴۴۴۴ ہفتم:… دعا کی بدعات ۱: مذاکرہ یا درس کے بعد کسی سے دعا کی درخواست کرنا: ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’کتاب العلم‘‘ (۱۵۹) (ص۳۶)۔ط۔ المکتب الاسلامی، میں ابراہیم نخعی کے اثر پر تعلیقاً بیان کیا: ’’وہ بیٹھا کرتے تھے اور علم و خیر کا مذاکرہ کیا کرتے تھے، پھر وہ اٹھ کر چلے جاتے، ان میں سے کوئی کسی سے بخشش کی درخواست کرتا نہ وہ یوں کہتا: اے فلاں! میرے لیے دعا کریں۔‘‘ یعنی: یہ کہ وہ صحابہ کا عمل نہ تھا، کہ وہ درس و مذاکرہ سے فارغ ہو کرایک دوسرے کے لیے دعا کرتے، لہٰذا وہ بدعت ہے، اس کی مثال: جناب شیخ کا اپنے ساتھیوں سے آگے آگے اور ان (مریدوں) کا ان کے پیچھے پیچھے چلنا، یہ بھی اسے فتنے اور غرور میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ۲: دعا ’’اللھم کما حسنت خلقی فحسن خلقی‘‘ کو آئینہ دیکھنے کے وقت کے لیے خاص کرنا: [2] ہمارے شیخ … قدس اللّٰہ روحہ … نے ’’الارواء‘‘ (۱/۱۱۵) میں حدیث رقم (۷۴) کے تحت بیان کیا:…اسی لیے اس حدیث سے آئینہ دیکھتے وقت اس دعا کے پڑھنے کی مشروعیت پر استدلال صحیح نہیں جیسا کہ مؤلف رحمہ اللہ [3] نے کیا ہے۔ ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا آئینہ دیکھنے کی شرط کے بغیر مطلق طور پر صحیح ہے۔
[1] ہمارے شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ نے صحیح الترغیب (۲/ ۲۵۴) حدیث رقم (۱۵۹۱) کے تحت فرمایا: من قال لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ… میں ان بعض معاصرین کی تردید ہے جنہوں نے ’’تسبیح‘‘ کے سنت ہونے کے بارے میں لکھا ہے۔ اور اس حدیث سے دلیل لیتے ہوئے سینکڑوں عدد کے ساتھ ذکر کی مشروعیت کا دعویٰ کیا۔ گویا کہ اس نے اس روایت سے لا علمی یا تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا جس عدد دو سو کی صراحت ہے کہ ایک وقت میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ سو صبح اور سو شام کے وقت ہے۔ اس کی تخریج الصحیحۃ (۲۵۶۳) میں ہے. [2] وہ صحیح ہے جیسا کہ ’’الارواء‘‘ رقم (۷۴) میں ہے. [3] یعنی: ’’منارالسبیل‘‘ کے مؤلف.