کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 708
اس کی تعداد جتنی بھی ہو بشرطیکہ شمار کرنے کا ذریعہ مشروع ہو، ذکر سے توجہ ہٹانا تصور کرے۔ کیونکہ اس وقت اس (ذکر) کو شمار کرنا بھی مشروع عبادت ہے، اس من گھڑت تعداد کی پابندی اس قول کے خلاف کہنے پر آمادہ کرتی ہے، اس عدد کا شمار بھی کسی بدعتی طریقے ہی سے ہو گا (کیونکہ عدد بھی تو بدعی ہے!)
اے اللہ! ہمیں اپنے نبی کی سنت کے انصار بنادے، اور دین میں نئے نئے کام جاری کرنے والوں سے نبرد آزما ہونے والے بنا دے۔
مکمل فائدہ کے لیے ہم اپنے قارئین بھائیوں کے لیے اس بدعت کی برائیوں اور آثار کے متعلق شیخ رحمہ اللہ کا کلام نقل کرتے ہیں، انہوں نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۱/۱۸۵) میں بیان کیا:
تسبیح ایک بدعت ہے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں نہ تھی، [1] یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو کسی ایسے امر پر ترغیب دلاتے جسے وہ جانتے ہی نہ ہوں؟![2]
شیخ رحمہ اللہ نے ’’الضعیفۃ‘‘ (۱/۱۹۲۔۱۹۳) میں بیان کیا:
اگر تسبیح میں صرف ایک ہی برائی ہو، وہ یہ کہ اس نے انگلیوں کے پوروں پر گننے والی سنت کو ختم کردیا، یاختم کرنے کے قریب کر دیا، اس پر ان کے اتفاق ہونے کے باوجود کہ وہ (انگلیوں پر گننا) افضل ہے، تو وہ ایک برائی ہی کافی ہے! میں نے شیخ کو انگلیوں پر تسبیح شمار کرتے ہوئے بہت کم دیکھا ہے! [3]
پھر اس بدعت کی وجہ سے لوگ بدعت سازی کا شکار ہو گئے، تم کسی سلسلے کی طرف منسوب کسی شخص کو اپنی گردن میں تسبیح ڈالے ہوئے دیکھو گے! [4] ان میں سے کوئی اس پر شمار کر رہا ہوتا ہے جبکہ وہ تم سے بات کر رہا ہوتا ہے یا تمہاری بات کو غور سے سن رہا ہوتا ہے! کئی دنوں سے میں نے ایک اور چیز دیکھی، کہ میں نے ایک آدمی کو سائیکل پر دیکھا، وہ ازدحام والے راستے پر جارہا تھا، اس کے ایک ہاتھ میں تسبیح تھی، وہ لوگوں کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ آنکھ جھپکنے کے برابر [5] بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہیں ہوتے! اور یہ بدعت ایسے بہت سے امور کے ضیاع کا
[1] ضعیفۃ (۱/ ۱۸۵) کے حاشیے میں یہ آیا ہے۔ اس کی تائید علمائے لغت کا یہ قول بھی کرتا ہے: لفظ السبحۃ (تسبیح) نیا بنایا ہوا لفظ ہے جسے عرب نہیں جانتے۔ الرد علی الحبشی (ص:۱۳) دیکھیں.
[2] پھر شیخ رحمہ اللہ نے اس کی بدعیت پر دلائل پیش کیے اور مخالفین سے مناقشہ کیا، اسے ’’الضعیفۃ‘‘ (۱/۱۵۸) اور اس کے بعد میں دیکھیں، اور ’’الرد علی الحبشی‘‘ دیکھیں، اس سے نقل بیان ہو چکی۔ وہ اہم ہے.
[3] ’’الرد علی الحبشی‘‘ (ص۵۲) دیکھیں.
[4] شیخ عبداللہ الغماری، جو کہ الطریقۃ الدرقاویۃ کے پیر طریقت ہیں، نے ان کی اس پر حوصلہ افزائی کی… وہ کہتے ہیں: ’’گردن میں تسبیح لٹکانے میں کوئی حرج نہیں، وہ اسی مثل ہے جیسے کاتب اپنے کان پر قلم رکھ لیتا ہے! کسی فقیہ سے یہ کتنی عجیب بات ہے کہ وہ اس قیاس کو اچھا سمجھتا ہے! وہ روئے زمین پر سب سے باطل قیاس ہے، اس لیے کہ اس کی بنا ایک موضوع روایت پر ہے۔ اس ’’السلسلۃ‘‘ کی جلد سوم (ص۳۷) کا مقدمہ دیکھیں۔ (منہ).
[5] ’’الرد علی الحبشی‘‘ (ص۱۲، ۶۴) دیکھیں.