کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 682
فصل: خرید وفروخت کی بدعات
۱: خریدو فروخت میں خطبۂ حاجت کو مشروع کہنے کی بدعت
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’خطبۃ الحاجۃ‘‘ (۳۳) میں جو بیان کیا، اس کی نص یہ ہے:
لیکن بیع وغیرہ میں جیسے اجرت وغیرہ کے معاملات میں اس خطبے کی مشروعیت کے بارے میں کہنا، واضح طور پر محل نظر ہے، یہ اس لیے کہ وہ اس میں ایجاب و قبول کے وجوب کے قول پر مبنی ہے، جبکہ وہ طے شدہ نہیں، بلکہ وہ ایک نیا کام ہے، کیونکہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہمارے اس دور تک ان اشیاء کے بارے میں ان الفاظ کے بغیر لین دین کرتے رہے۔ بلکہ بالفعل جو کہ مقصود پر دلالت کرتا ہے، یہ اس کے لائق تر ہے کہ اس (بیع و شراء) میں خطبہ ایک بدعت اور امر محدث ہو۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیوع وعقود جو سنت مطہرہ کی کتب میں بہت زیادہ اور مشہور ہیں،کہ وہ ان کے بعض کو اس عجلت میں نقل کرنے سے بے نیاز کر دیتے ہیں، ان میں ایجاب و قبول کے حوالے سے کوئی چیز نہیں، خطبہ تو دور کی بات ہے۔
۲: ایجاب و قبول اور عطا کرنے میں معین لفظ کی پابندی کی بدعات[1]
’’خطبۃ الحاجۃ‘‘ (۳۳)
[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس مسئلے کے متعلق۔ جیسا کہ انہوں نے خود فرمایا۔ ایک عظیم فائدہ مند قاعدہ بیان کرنے کے لیے ایک فصل قائم کی اور اس فصل میں فرمایا: عقود میں ایجاب و قبول، اور اس میں عطا کرنے کے بارے میں ان کا اس بارے میں یہ موقف ہے کہ اس میں کسی معین لفظ کی قید نہیں لگائی جائے گی، بلکہ ایسا کرنا بدعات میں سے ہے، وہ کسی بھی لفظ سے صحیح ہو جاتی ہے، اور مقصود پر دلالت کرنے والے فعل سے یہ صحیح قرار پاتی ہے، اور انہوں نے اس پر کتاب و سنت اور لغت سے استدلال کیا ہے، اور اس بارے میں جس قدر فوائد و تحقیقات ہیں وہ آپ کہیں اور نہ پائیں گے۔ دیکھیں ’’الفتاوی‘‘ (۳/۲۶۷۔۲۷۴)۔ (منہ).