کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 676
۱۶۷: کعبہ کے طواف کی مشابہت میں بیت المقدس کے صخرہ کے قبے کا طواف: ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۳۷۲،۳۸۰۔۳۸۱)۔ ۱۶۸: تعظیم کے کسی بھی حوالے سے بیت المقدس کے صخرہ کی تعظیم کرنا جیسے اسے چھونا، اسے چومنا، وہاں بکرے لے کر جانا تا کہ انہیں وہاں ذبح کیا جائے، عرفہ کی سہ پہر اس کے پاس قیام کرنا اور اس پر عمارت بنانا وغیرہ: ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۵۶۔۵۷)[1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۴۶/۱۶۸)، ’’المناسک‘‘ (۶۵/۱۶۹) ۱۶۹: ان کا کہنا کہ جس نے بیت المقدس میں چار بار وقوف کیا وہ حج کے برابر ہے! ’’الباعث‘‘ (ص۲۰) ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۴/ ۱۶۹)[2] ۱۷۰: ان کا یہ کہنا کہ وہاں اس پتھر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم اور آپ کے عمامے کا اثر ہے۔ اور ان میں سے بعض کا یہ گمان کرنا کہ وہ رب سبحانہ و تعالیٰ کے قدم کی جگہ ہے: [3] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۴۸۔۱۷۰) ’’المناسک‘‘ (۶۵/۱۷۰)
[1] شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے (ص۵۷۔۵۸) فرمایا:’’مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سلیمان علیہ السلام نے بنایا، بعض لوگ ’’الاقصی‘‘ اس نماز پڑھنے کی جگہ کو کہنے لگے جسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے آگے بنایا اور نماز پڑھنے کی وہ جگہ جسے عمر نے مسلمانوں کے لیے بنایا اس میں نماز پڑھنا باقی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے، عمر بن خطاب نے جب بیت المقدس کو فتح کیا اس پتھر پر بہت زیادہ کوڑا کرکٹ پڑا ہوا تھا، کیونکہ نصاری ان یہود کے مقابلے میں، جو کہ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، کی اہانت کرنا چاہتے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے نجاست دور کرنے کا حکم فرمایا، اور کعب سے فرمایا: آپ کے خیال میں ہم مسلمانوں کے لیے نماز پڑھنے کی جگہ کہاں بنائیں؟ انہوں نے کہا: اس پتھر کے پیچھے، انہوں نے فرمایا: یہودیہ کے بیٹے! کسی یہود یہ نے تمہارے ساتھ راہ ورسم رکھی،بلکہ ہم اسے اس کے آگے بنائیں گے۔ ہمارے لیے مساجد کے اگلے حصے ہیں، اسی لیے ائمہ امت جب اس مسجد میں آتے تو وہ اس مصلیٰ پر نماز پڑھنے کا قصد کرتے جسے عمر رضی اللہ عنہ نے بنایا تھا، رہا وہ پتھر تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس نماز پڑھی نہ صحابہ نے اور نہ خلفاء راشدین کے دور میں اس پر کوئی قبہ تھا۔ بلکہ وہ عمر، عثمان، علی، معاویہ، یزید اور مروان کے دور میں قبے کے بغیر تھا، لیکن… پھر انہوں نے ذکر کیا کہ وہ عبدالملک بن مروان ہے جس نے اس پر قبہ بنوایا، اور موسم سرما و گرما میں اس پر غلاف چڑھایا، تا کہ لوگ بیت المقدس کی زیارت کی رغبت رکھیں…‘‘ پھر انہوں نے کہا: ’’رہے صحابہ اور تابعین اہل علم تو انہوں نے اس پتھر کی تعظیم نہیں کی، کیونکہ وہ ایک منسوخ قبلہ ہے، صرف یہود اس کی تعظیم کرتے ہیں اور بعض عیسائی۔‘‘ میں کہتا ہوں: آپ اس سے جان لیں کہ اس کی ترمیم اور اس کی جدید تعمیر ۔ جس کا ہفتوں سے اعلان ہو چکا ہے۔ پر انہوں نے لاکھوں پونڈ خرچ کیے۔ وہ تو محض اسراف و تبذیر اور پہلے مومن حضرات کی راہ کی مخالفت ہے۔ (منہ). [2] یہ بدعت ’’المناسک‘‘ میں موجود نہیں. [3] شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے یہ سارے امور ’’المجموعۃ‘‘ (۲/۵۸۔۵۹) میں ذکر کیے ہیں، اور ان کے متعلق بتایا: ’’وہ سب جھوٹ ہیں۔‘‘ اور گہوارے کی جگہ کے بارے میں فرمایا: ’’وہ تو نصاریٰ کی اس تقریب کی جگہ ہے جہاں عیسائی عالم بچے پر اس پانی کے چھینٹے دیتا ہے جس پر وہ انجیل کے کچھ فقرے پڑھ کر دم کرتا ہے۔ (منہ).