کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 675
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۵/۱۶۱)، ’’المناسک‘‘ (۶۴/۱۶۲)۔
۱۶۲: شہداء احد کی زیارت کے لیے جمعرات کے دن کی تخصیص:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۵/۱۶۲)، ’’المناسک‘‘ (۶۴/۱۶۳)۔
۱۶۳: ارض شہداء پر روغن کی ہوئی کھڑکی کے ساتھ کپڑے کے ٹکڑے باندھنا: [1]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۵/۱۶۳)، ’’المناسک‘‘ (۶۴/۱۴)۔
۱۶۴: شہداء احد کی قبروں کے ایک جانب موجود تالاب میں برکت کے حصول کی خاطر غسل کرنا:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۶/۱۶۴)، ’’المناسک‘‘ (۶۴/۱۶۵)۔
۱۶۵: مسجد نبوی سے الوداعی طور پر نکلتے وقت الٹے پاؤں نکلنا:
’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۳۸۸)، ’’المدخل‘‘ (۴/۲۳۸)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۶/۱۶۵)، ’’المناسک‘‘ (۶۴/۱۶۶)۔
۱۱: بیت المقدس کی بدعات
۱۶۶: حج کے ساتھ بیت المقدس کی زیارت کا قصد اور ان کا کہنا: ’’قدس اللہ حجتک‘‘:[2]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۶/۱۶۶)۔ ’’المناسک‘‘ (۶۵/۱۶۷)
[1] وہ سرزمین جہاں حمزہ اور دیگر شہداء احد کی قبریں ہیں وہاں ۱۳۸۳ھ تک کوئی عمارت تعمیر نہیں کی گئی تھی، لیکن ۱۳۸۴ھ میں سعودی حکومت نے وہاں سیمنٹ کی پختہ دیوار کھڑی کردی ہے، وہاں لوہے کا بڑا دروازہ لگایا ہے جو کہ سامنے والی جانب ہے اور مشرقی دیوار کے آخر پر لوہے کی کھڑکی لگادی ہے، جب ہم نے یہ صورت دیکھی تو ہم نے شر محسوس کیا اور ہم نے کہا یہ بڑا خطرناک مسئلہ ہے اور یہ کوئی بعید نہیں کہ قبروں پر پھر سے مساجد اور قبے بنائے جائیں جیسا کہ سعودی حکومت سے پہلے تھا، جس وقت لوگ دین کے لیے پر جوش اور اس کے احکام پر عمل کرنے والے تھے، اللہ اپنے امر (کے نافذ کرنے) پر غالب ہے اور یہ پہلا شر ہے، میں نے اس کھڑکی پر کپڑے کے ٹکڑوں کو بڑھتے (زیادہ ہوتے) ہوئے دیکھا ہے اور جب دیوار مکمل ہوگئی اور مجھے بتایا گیا کہ ان میں سے بعض حصول برکت کے لیے اس عمارت کے اندر نماز پڑھنے لگے ہیں، اور جب شرع کی تطبیق میں تساہل اور اس کی مخالفت پر دلیری والا معاملہ چلے گا تو پھر وہ دن کوئی دور نہیں کہ بت پرستی کے مظاہر موحد حکومت کی طرف لوٹ آئیں گے جیسا کہ اس کی حکومت سے پہلے حالت تھی اللہ اس کی خطا کی درستی فرمائے اور اسے کامل طور پر شرع پر عمل کرنے کی طرف راہنمائی فرمائے، جسے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت آڑے نہ آئے، اور اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ (منہ).
[2] شیخ الاسلام نے اپنے ’’مجموعہ‘‘ (۲/۶۰۔۶۱) میں فرمایا: ’’جہاں تک بیت المقدس کی زیارت کا تعلق ہے تو وہ تمام اوقات میں مشروع ہے… جبکہ وہاں قیام کرنے کی خاطر اس کی طرف سفر کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ قربت کا ذریعہ ہے حرام ہے… جبکہ حج کے ساتھ اس کی طرف سفر کرنا قربت کا ذریعہ نہیں، کسی کا یوں کہنا: ’’قدس اللہ حجتک‘‘ قول باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ جیسا کہ مروی ہے: ’’جس نے ایک ہی سال میں میری زیارت کی اور میرے باپ (ابراہیم) کی زیارت کی میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔’’بے شک یہ حدیث کی معرفت رکھنے والوں کے اتفاق سے کذب ہے، بلکہ اس طرح کی تمام احادیث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کے بارے میں مروی ہیں وہ ضعیف، بلکہ موضوع ہیں۔‘‘ (منہ).