کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 674
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۳/۱۵۷)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۱۵۸)۔ ۱۵۸: مدینہ آنے والوں کا وہاں ایک ہفتہ (سات دن) قیام کرنے کی پابندی کرنا تاکہ وہ مسجد نبوی میں چالیس نمازیں پڑھ سکیں، تاکہ ان کے لیے نفاق اور جہنم سے براء ت لکھ دی جائے: [1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۴/۱۵۸)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۱۵۹)۔ ۱۵۹: مسجد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسجد قباء کے علاوہ مدینہ اور اس کے آس پاس والی مساجد اور زیارت گاہوں کا قصد کرنا: ’’تفسیر سورۃ الاخلاص‘‘ (۱۷۳۔۱۷۷)۔ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۴/۱۵۹)، ’’المناسک‘‘ (۶۴/۱۶۰) ۱۶۰: حجر اسود یا اس سے دور معلموں کا حاجیوں کی جماعت کو بلند آواز کے ساتھ بعض اذکار و اوراد کی تلقین کرنا اور پھر ان لوگوں کا ان تلقین شدہ اذکار و اوراد کا اس سے بھی زیادہ بلند آواز سے اعادہ کرنا: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۴/۱۶۰)، ’’المناسک‘‘ (۶۴/۱۶۱)۔ ۱۶۱: ہر روز بقیع کی زیارت کرنا اور مسجد فاطمہ رضی اللہ عنہا میں نماز پڑھنا: [2]
[1] اس بارے میں وارد حدیث ضعیف ہے، وہ قابل استدلال نہیں، میں نے ’’السلسلۃ‘‘ (رقم:۳۶۴) میں اس کی علت بیان کی ہے، اس پر عمل کرنا جائز نہیں، کیونکہ وہ تشریع ہے، خاص طور پر بعض حجاج اس سے حرج محسوس کرتے ہیں، جیسا کہ میں اسے بذات خود جانتا ہوں، وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ اس بارے میں وارد روایت صحیح ہے، اس کی اس میں کچھ نمازیں چھوٹ گئیں! پس وہ حرج میں مبتلا ہوگیا، اور اللہ نے اس کو اس سے آرام دلایا! (منہ) اور ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’المناسک‘‘ (ص۶۳) میں یہ اضافہ نقل کیا: بعض علماء کا موقف ہے کہ وہ حدیث جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ قوی ہے اور انھوں نے اس بارے میں ابن حبان کی اس کے مجہول راویوں میں سے کسی کی توثیق پر اعتماد کیا ہے، جبکہ یہ توثیق اس ضمن سے ہے جسے جرح و تعدیل کے علماء کوئی اہمیت نہیں دیتے. [2] اس کو اور اس سے پہلے عمل کو غزالی نے مستحب قرار دیا۔ عفا اللّٰہ عنا وعنہ۔ لیکن انھوں نے اس پر کوئی دلیل ذکر نہیں کی اور وہ ناممکن ہے۔ قبروں کی زیارت کی مشروعیت میں کوئی شک نہیں، لیکن وہ مطلق ہے، اس میں کسی خاص دن یا ہر روز کی کوئی شرط نہیں، بلکہ جب بھی آسانی سے ہوسکے، رہی مسجد فاطمہ رضی اللہ عنہا میں نماز تو اگر مسجد ان کی قبر پر بنائی گئی ہے، تو پھر وہاں نماز پڑھنے کی حرمت کے بارے میں کوئی شک نہیں، اور اگر کوئی مسجد صرف ان کی طرف منسوب ہے تو پھر اس میں نماز پڑھنے کا قصد کرنا بدعت ہے۔ (اس کتاب میں مذکور ’’حج اور عمرہ کی بدعات‘‘ میں سے بدعت رقم ۱۵۹ دیکھیں).