کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 673
۱۵۴: منبر اور قبر شریف کے درمیان روضہ شریف میں صیحانی کھجور کھا کر تقرب حاصل کرنا:
’’الباعث علی إنکار البدع‘‘ (ص۷۰)، ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ ۲/۳۹۶)۔ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۲/۱۵۴)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۱۵۵)۔
۱۵۵: اپنے بال کاٹ کر تربت نبویہ کے قریب بڑي قندیل میں پھینکنا:
’’الباعث علی إنکار البدع‘‘ (ص۷۰)، ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۳۹۶)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۲/۱۵۵)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۱۵۶)۔
۱۵۶: منبر کی غربی جانب مسجد میں رکھے ہوئے پیتل کے بنے ہوئے کھجور کے دو درختوں کو چھونا: [1]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۴۲/۱۵۶)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۱۵۷)۔
۱۵۷: بہت سے اہل مدینہ اور مدینہ کے باہر سے آئے ہوئے لوگوں کا قدیم مسجد میں نماز پڑھنے کی پابندی کرنا اور ان کا پہلی صفوں کو نہ ملانا:… [2]
[1] کھجور کے ان دو درختوں کا مطلق طور پر کوئی فائدہ نہیں، وہ تو محض زینت کے لیے اور لوگوں کے فتنے کے لیے رکھے گئے ہیں، جس وقت ہم وہاں تھے تو ہم سے ان کو اٹھا دیے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن عبث! [ہمارے شیخ نے ’’المناسک‘‘ میں بیان فرمایا: بعد میں انھیں ہٹا دیا گیا، الحمد للّٰہ] (منہ).
[2] بعض اہل علم اس بدعت کا شکار ہوچکے ہیں، ان کا اس بارے میں جو شبہہ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ’’صلاۃ فی مسجدی ہذا بألف صلاۃ…‘‘، ’’میری اس مسجد میں ایک نماز ہزار نماز کے برابر ہے…‘‘ میں اسم اشارہ ہذا (اس) سے تمسک ہے، حالانکہ انھوں نے جو موقف اختیار کیا ہے اس میں یہ نص نہیں۔ کیونکہ اس اضافے تک فضیلت کے بڑھنے کے منافی نہیں، جیسا کہ وہ ان زیادات (توسیع) میں حالت ہے جو مسجد مکی تک شامل کی گئی ہیں، معلوم رہے کہ اس امر میں جو غایت ہے وہ اس مسجد میں نماز پڑھنے کی ترغیب ہے، اس میں اس کا وجوب نہیں، جب اس طرح ہوتا، تو پھر انہیں چاہیے تھا کہ وہ نوافل نماز کی اس میں پابندی کرتے جن میں جماعت نہیں کرائی جاتی ہے، ہاں اگر وہ جماعت بھی کراگزریں تو پھر یہ محض ایک خطا ہے، کیونکہ یہ تو تب اس طرح ہے: جو محل بناتا ہے اور شہر گراتا ہے، خاص طور پر جبکہ وہ اہل علم ہوں، کیونکہ وہ بہت سے امور ضائع کرتے ہیں، وہ اس فضیلت سے بہت زیادہ اہم ہیں، بلکہ ان میں سے بعض تو واجب ہیں انہیں ترک کرنے والا گناہ گار ہے، میں ان سے کچھ ابھی ذکر کرتا ہوں:
(ا) صفوں کو نہ ملانا: جب کہ بہت سی احادیث کی رو سے وہ واجب ہے، جیسا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جو صف کو ملاتا ہے اللہ اسے ملاتا ہے، اور جو صف کو قطع کرتا ہے اللہ اسے قطع کرتا ہے۔‘‘ نسائی ودیگر نے اسے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ مسجد نبوی میں دیکھا گیا ہے کہ وہ پہلی صفیں جو مسجد کے اس حصے میں ہیں جس کی توسیع کی گئی ہے وہ ان لوگوں کی قدیم مسجد میں نماز پڑھنے کی حرص کی وجہ سے پوری نہیں ہوتیں! اس لیے وہ گناہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
(ب) اہل علم کا امام کے پیچھے (قریب) نماز نہ پڑھنا: حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان کے ذریعے انہیں حکم فرمایا ہے: ’’دانش ور اور انتہائی عقل مند حضرات میرے قریب/ پیچھے (صف میں) ہوں…‘‘ (صحیح مسلم)
(ج) ان سب کا پہلی صفوں میں نماز نہ پڑھنا، خاص طور پر ان میں سے پہلی صف، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’مردوں کی صفوں میں سے پہلی صف سب سے بہتر ہے جبکہ ان کی آخری صف سب سے بری ہے…‘‘ (صحیح مسلم وغیرہ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر لوگ جان لیں کہ اذان (دینے) اور پہلی صف میں (کھڑے ہونے کی) کیا فضیلت ہے، پھر انہیں اس پر قرعہ اندازی بھی کرنی پڑے تو وہ ضرور قرعہ اندازی کریں۔‘‘ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
اور ہم اگر یہ بات جزم کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ صف اوّل کی مطلق فضیلت مسجد قدیم کی پچھلی صفوں سے افضل ہے تو اسی طرح ان میں سے کوئی اس کے برعکس کا بھی دعویٰ نہیں کرسکتا، لیکن جب اس کے ساتھ اس کو ملایا جائے جس کا دو پہلے امور کے حوالے سے ذکر گزرا ہے تو تب مسجد قدیم میں نماز پر اس توسیع میں نماز پڑھنے کو ترجیح دینے میں کوئی شک نہیں، اسی لیے جس وقت میں نے کئی ایک علماء اور طالب علموں سے اس مسئلے پر بحث و تحقیق کی تو انھوں نے اسی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پس وہ اس توسیعی حصے میں نماز پڑھنے لگے، اللہ اس پر رحم فرمائے جس نے انصاف کیا اور اس نے ظلم نہیں کیا۔ (نا انصافی نہیں کی) (منہ).