کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 672
’’الرد علی البکری‘‘ لإبن تیمیۃ (۷۱)، ’’القاعدۃ الجلیلۃ‘‘ (۱۲۵۔۱۲۶)، ’’الإغاثۃ‘‘ (۱/۱۹۴۔۱۹۵)، الخادمی علی ’’الطریقۃ المحمدیۃ‘‘ (۴/۳۲۲)۔ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۰/۱۴۷)، ’’المناسک‘‘ (۶۲/۱۴۹) ۱۴۸: قبر[1] کے پاس بیٹھنا اور اس کے اردگرد بیٹھ کر تلاوت و ذکر کرنا: ’’الإقتضاء‘‘ (۱۸۳۔۲۱۰)۔ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۱/۱۴۸)، ’’المناسک‘‘ (۶۲/۱۵۰)۔ ۱۴۹: ہر نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پیش کرنے کے لیے قبر نبوی کا قصد: [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۱/۱۴۹)، ’’المناسک‘‘ (۶۱/۱۵۱)۔ ۱۵۰: اہل مدینہ کا مسجد نبوی میں ہر مرتبہ آتے اور جاتے وقت قبر نبوی کی زیارت کا قصد کرنا: ’’الرد علی الأخنائی‘‘ (ص۱۵۰۔۱۵۱، ۱۵۶، ۲۱۷، ۲۱۸)، ’’الشفا فی حقوق المصطفی‘‘ للقاضی عیاض (۲/۷۹)، ’’المدخل‘‘ (۱/۲۶۲)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۱/۱۵۰)، ’’المناسک‘‘ (۶۲/۱۵۲)۔ ۱۵۱: مسجد میں آتے وقت یا وہاں سے نکلتے وقت قبر شریف کی جانب توجہ کرنا اور انتہائی خشوع کے ساتھ اس سے دور قیام کرنا: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۱/۱۵۱)[3] ۱۵۲: نماز کے بعد بلند آواز سے یوں کہنا: ’’السلام علیک یارسول اللہ…: ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۳۹۷)۔ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۲/۱۵۲)، ’’المناسک‘‘ (۶۲/۱۵۳)۔ ۱۵۳: بارش کے ذریعے گنبد خضراء سے گرنے والے سبز پینٹ کے ٹکڑوں سے برکت حاصل کرنا: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۴۲/۱۵۳)، ’’المناسک‘‘ (۶۳/۱۵۴)۔
[1] یعنی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر، لام یہاں ’’عہد ذکری‘‘ کے لیے ہے اور یہ بدعت ’’مدینہ منورہ کی بدعات‘‘ کے عنوان کے تحت ہے۔ اسی طرح: تلاوت و ذکر کے لیے کسی قبر کے پاس بیٹھنا، البتہ قبر کی زیارت، شرعی دعا اور صاحب قبر پر سلام پیش کرنا اس کے علاوہ ہے۔ (منہ). [2] اس کے بدعت ہونے کے ساتھ ساتھ دین میں غلو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی مخالفت بھی ہے: ’’میری قبر کو عید / میلہ نہ بنانا اور تم جہاں بھی ہو مجھ پر درود پڑھنا کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پہنچ جاتا ہے۔‘‘ بے شک وہ بہت سی سنن اور بہت سے فضائل کے ضیاع کا سبب ہے، سن لو وہ سلام پھیرنے کے بعد اذکار و اوراد ہیں، وہ انھیں چھوڑ دیتے ہیں اور اس بدعت کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جس کا یہ قول ہے اللہ اس پر رحم فرمائے: ’’جب کوئی بدعت شروع ہوتی ہے تو سنت مٹا دی جاتی ہے۔‘‘ (منہ) میں کہتا ہوں: اس مخالفت پر تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے۔ والحمد للّٰہ علی توفیقہ. [3] یہ بدعت ’’مناسک الحج والعمرۃ‘‘ کے رسالے میں نہیں ہے.