کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 671
(۱۳۸/۱۴۵)، ’’المناسک‘‘ (۶۲/۱۴۷)۔ ۱۴۶: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں اصحاب کی زیارت کے لیے کسی خاص صورت کی پابندی کرنا اور خاص دعا وسلام کی شرط عائد کرنا، جیسا کہ غزالی نے کہا: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کے پاس کھڑا ہوگا، قبلہ کی طرف پیٹھ کرے گا اور قبر کی دیوار کی طرف، اس ستون سے جو کہ قبر کی دیوار کے زاویے میں ہے اس سے تقریباً چار ہاتھ کے فاصلے پر رخ کرے گا، اور کہے گا: ’’ السلام علیک یا رسول اللّٰہ، السلام علیک یا نبی اللّٰہ… یا أمین اللّٰہ… یا حبیب اللّٰہ۔ ’’انھوں نے ایک طویل سلام ذکر کیا، پھر اسی طرح تقریباً تین صفحات پر مشتمل طویل صلاۃ و دعا۔‘‘ پھر تقریباً ایک ہاتھ پیچھے ہٹ کر ابوبکر صدیق پر سلام پیش کرے گا، کیونکہ ان کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کے پاس ہے۔ پھر تقریباً ایک ہاتھ پیچھے ہٹے گا اور الفاروق پر سلام پیش کرے گا اور کہے گا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیرو اور معاونین تم پر سلام ہو… پھر وہ واپس آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس کھڑا ہوگا اور قبلہ کی طرف رخ کرے گا… پھر انھوں نے ذکر کیا کہ وہ اللہ کی حمد اور شان بیان کرے گا، اور یہ آیت ﴿وَلَوْ اَنَّہُمْ إِذْ ظَّلَمُوْا﴾ (النساء:۶۴) پڑھے گا، پھر تقریباً نصف صفحہ پر مشتمل دعا پڑھے گا:‘‘ [1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۹/۱۴۶)، ’’المناسک‘‘ (۶۲/۱۴۸) ۱۴۷: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے سامنے نماز کا قصد کرنا: [2]
[1] مشروع جو ہے وہ مختصر سلام ہے: السلام علیک یارسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، السلام علیک یا ابابکر! السلام علیک یا عمر! ابن عمر کیا کرتے تھے، تو اگر حسب منشاء معمولی سا اضافہ کرلے لیکن اس کی پابندی نہ کرے تو ان شاء اللہ تعالیٰ اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (منہ). [2] میں نے ان تین سالوں میں جو میں نے مدینہ منورہ میں جامعہ اسلامیہ (جو کہ مدینہ یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہے۔ مترجم) میں (۱۳۸۱ھ۔۱۳۸۴ھ) بطور استاذ گزارے۔ میں نے بہت سی بدعات دیکھیں جو مسجد نبوی میں کی جاتی ہیں، جبکہ ذمہ داران ان سب پر چپ سادھے رہے، جیسا کہ بالکل وہی صورت ہمارے ہاں ملک شام میں ہے۔ ان بدعات میں سے جو کہ صریح شرک ہے، اس بدعت کے مانند، بہت سے حجاج قبر شریف کے سامنے نماز کا قصد کرتے ہیں، حتیٰ کہ عصر کی نماز کے بعد جو کہ ایسا وقت ہے جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور ان کو اس پر وہ چیز ابھارتی ہے کہ وہ قبر شریف کی دیوار میں جس طرف وہ رخ کرتے ہیں ایک چھوٹا سا محراب دیکھتے ہیں جو کہ ترکوں کے آثار میں سے ہے، وہ اپنی زبان حال سے جاہلوں کو اپنے پاس نماز پڑھنے کی دعوت دیتا ہے، اس پر مزید اضافہ کریں، کہ وہ جگہ جہاں وہ نماز پڑھتے ہیں وہاں بہترین جائے نماز بچھی ہوئی ہے، میں نے بعض فضلاء سے ان جاہلوں اور جو وہ خلاف سنت کام کرتے ہیں ان کے درمیان رکاوٹ بننے کی ضرورت کے متعلق بات کی، میں نے سب سے زیادہ زور اس پر دیا کہ اس جائے نماز کو وہاں سے اٹھالیا جائے، نہ کہ محراب! انھوں نے ہم سے خیر و بھلائی کا وعدہ کیا، لیکن وہ مسؤل جو کہ یہ کرسکتا ہے اس نے یہ کیا نہ کرے گا مگر یہ کہ اللہ چاہے، اس لیے کہ وہ بعض اہل مدینہ کی خواہشات و ترغیبات پر ہم نوائی کرتا ہے، اور وہ اہل علم خیر خواہوں کی بات نہیں مانتا، خواہ وہ بھی وہیں کے رہنے والے ہوں، الی اللہ المشتکی۔ ایمان کے ضعف اور اس خواہش و گمراہی کے غلبے کی وجہ سے، جس نے اس میں فائدہ نہ دیا، حتیٰ کہ توحید، اس کا سبب مال والوں پر مال کی محبت کا غلبہ ہے مگر وہ جسے اللہ بچائے، لیکن وہ کم ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: ’’فتنۃ أمتی المال‘‘ ’’میری امت کا فتنہ مال ہے۔‘‘ (منہ).