کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 669
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۷/۱۳۰)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۳۲)۔ ۱۳۱: حاجیوں اور زائرین کے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چٹھیاں ارسال کرنا: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۷/۱۳۱)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۳۳)۔ ۱۳۲: مدینہ منورہ میں داخلے سے پہلے غسل کرنا: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۷/۱۳۲)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۳۴)۔ ۱۳۳: جب مدینے کی دیواروں پر نظر پڑے تو یوں کہنا: ’’اے اللہ! یہ تیرے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا حرم ہے، اسے میرے لیے جہنم کی آگ سے بچاؤ، عذاب اور سوء حساب سے امان کا ذریعہ بنا دے:‘‘ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۷/۱۳۳)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۳۵)۔ ۱۳۴: مدینہ میں داخلے کے وقت یہ دعا پڑھنا: ’’بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ، رب ادخلنی مدخل صدق، واخرجنی مخرج صدق، واجعل لی من لدنک سلطانا نصیرا:‘‘ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۷/۱۳۴)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۳۶)۔ ۱۳۵: قبر نبوی کو آپ کی مسجد میں باقی رکھنا: [1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۷/۱۳۵)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۳۷)۔ ۱۳۶: آپ کی مسجد میں نماز پڑھنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنا: [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۷/۱۳۶)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۳۸)۔ ۱۳۷: ان میں سے کسی کا دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر انتہائی خشوع کے ساتھ قبر کے سامنے کھڑا ہونا جیسا کہ نماز میں کیا جاتا ہے: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۷/۱۳۷)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۳۹)۔ ۱۳۸: دعا کرتے وقت قبر کی طرف رخ کرنے کا قصد کرنا: ’’الإختیارات العلمیۃ‘‘ (۵۰)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۸/۱۳۸)، ’’المناسک‘‘ (۶۰/۱۴۰)۔
[1] دیوار کے ذریعے اس (قبر شریف) کو مسجد سے الگ رکھنا واجب ہے جیسا کہ خلفائے راشدین کے زمانے میں تھا، میں نے کئی سال پہلے اسے ’’تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد‘‘ میں بیان کیا۔ (منہ). میں کہتا ہوں: اس مسئلے پر ہمارے شیخ رحمہ اللہ کا کلام اس کی حقیقت، دلیل اور تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔ والحمد للہ وحدہ. [2] ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ لشیخ الاسلام (۲/۳۹۰)۔ (منہ).