کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 668
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’الصحیحۃ‘‘ (۴/۶۳۸) میں بیان کیا:
حج کے بعد عمرہ تو اس حائضہ کے لیے ہے جو حج سے پہلے حج کا عمرہ نہ کرسکی ہو، کیونکہ اس کے ایام ماہواری شروع ہوگئے تھے، جیسا کہ اس قصۂ عائشہ سے پتہ چلتا ہے۔[1]
اس (واقعہ) کی مثل وہ خواتین ہیں جنھوں نے عمرۂ حج کے لیے احرام باندھا جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا، پھر ایام ماہواری کی وجہ سے وہ اسے پورا نہ کرسکیں، تو یہ عمرہ ایسی خواتین کے لیے حج کے بعد مشروع ہے، پس یہ جو جمہور حجاج حج کے بعد عمرہ پر ٹوٹ پڑتے ہیں، یہ اس ضمن سے ہے جسے ہم مشروع نہیں سمجھتے، کیونکہ جن صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ عمرہ نہیں کیا، بلکہ میں تو اسے مردوں کی عورتوں کے ساتھ مشابہت تصور کرتا ہوں، بلکہ ان میں سے بھی حیض والیوں کے ساتھ، اسی لیے میں نے حقیقت بیان کرنے کے لیے اس عمرہ کا نام ہی ’’عمرۂ حائض‘‘ رکھا ہے۔
۱۲۸: طواف وداع کے بعد مسجد حرام سے الٹے پاؤں نکلنا: [2]
’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۸/۲۸۸)، ’’الإختیارات العلمیۃ‘‘ (ص۷۰)، اور ’’المدخل‘‘ (۴/۲۳۸)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۶/۱۲۸)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۳۰)۔
۱۲۹: حاجیوں کے گھر کو سفیدی کرنا، اس پر مورتیاں وغیرہ بنانا اور اس پر حاجی کا نام اور حج کی تاریخ لکھنا:
’’السنن والمبتدعات‘‘ (ص۱۱۳)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۶/۱۲۹)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۳۱)۔
۱۰: مدینہ منورہ میں زیارت کی بدعات
۱۳۰: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کا قصد کرتے ہوئے سفر کرنا: [3]
[1] اسے ’’الصحیحۃ‘‘ حدیث رقم (۱۹۸۴) میں دیکھیں.
[2] غزالی نے ’’الإحیاء‘‘ (۱/۲۳۲) میں بیان کیا: ’’زیادہ پسندیدہ بات یہی ہے کہ وہ اپنی نظر بیت اللہ سے نہ ہٹائے حتیٰ کہ وہ اس کو نظر آنا ختم ہوجائے۔‘‘ اسی مانند شیخ الاسلام نے ’’الإختیارات‘‘ (ص۷۰) میں ابن عقیل اور ابن الزاغونی سے نقل کیا، پھر کہا: ’’یہ بدعت ہے۔‘‘ (منہ).
[3] سنت تو یہ ہے کہ مسجد نبوی کے قصد سے سفر کیا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’لا تشد الرحال إلا إلی ثلاثۃ مساجد …‘‘ ’’صرف تین مساجد کے لیے رخت سفر باندھا جائے…‘‘ الحدیث، پس جب وہاں پہنچ جائے اور تحیۃ المسجد پڑھ لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کرے۔ (منہ)
ہمارے شیخ رحمہ اللہ نے ’’المناسک‘‘ میں یہ اضافہ نقل کیا: ’’یہ جاننا واجب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اور کسی اور کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھنا ایک چیز ہے، جبکہ رخت سفر باندھنے کے بغیر زیارت ایک اور چیز ہے، جو کہ اس کے خلاف ہے جو کہ متاخرین کے ہاں مشہور و عام ہے، ان دونوں کو خلط ملط کرنے میں بعض ڈاکٹر (پی ایچ ڈی) حضرات بھی شامل ہیں اور انھوں نے خصوصی طور پر شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی طرف نسبت کی ہے اور سلفیوں کی طرف عمومی طور پر کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کی مشروعیت کا انکار کرتے ہیں، یہ واضح بہتان ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں: یہ مسئلہ وضاحت، اصلیت اور دلائل کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ اللہ کا شکر ہے جس کی نعمت کے ذریعے نیک اعمال تکمیل کو پہنچتے ہیں.