کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 665
۱۱۸: جمرات کے پاس والی مساجد کا طواف: ’’مجموعۃ الرسائل الکبری‘‘ (۲/۳۸۰۔۳۸۱)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۴/۱۱۸)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۲۰)۔ ۱۱۹: قربانی کے دن منیٰ میں نماز عید کا استحباب: ’’القواعد النورانیۃ‘‘ (ص۱۰۱)۔[1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۴/۱۱۹)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۲۱)۔ ۱۲۰: حج تمتع کرنے والے کا طواف افاضہ کے بعد سعی نہ کرنا: [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۴/۱۳۰)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۲۲)۔ ۹: وداع کی مختلف انواع کی بدعات ۱۲۱: کعبہ کے غلاف کی تقریب: ’’تفسیر المنار‘‘ (۱/۴۶۸)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ، (۱۳۴/۱۲۱)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۲۳)۔ ۱۲۲: مقام ابراہیم علیہ السلام کو غلاف پہنانا: [3] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۴/۱۲۲)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۲۴)۔ ۱۲۳: قضائے حاجات کے لیے مقام ابراہیم علیہ السلام اور منبر سے کپڑوں کے چیتھڑے باندھنا[4]: ۱۲۴: حجاج کا کعبہ کی دیواروں کے ستونوں پر اپنے نام لکھنا اور ان کا بعض کو اس کی وصیت و حکم کرنا: ’’السنن والمبتدعات‘‘ (۱۱۳)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۵/۱۲۴)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۲۶)۔
[1] انھوں نے کہا: ’’یہ سنت سے غفلت ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء نے منیٰ میں کبھی کوئی عید نہیں پڑھی اور انھوں نے ’’مجموعۃ‘‘ (۲/۳۸۵) میں فرمایا: ’’منیٰ میں نماز عید نہیں، بلکہ جمرہ عقبہ کی رمی ان باہر سے آنے والوں کے لیے نماز عید کے مانند ہے۔’‘(منہ). [2] کیونکہ اس سعی کے متعلق حکم ثابت ہے جیسا کہ [ان کے رسالے ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(ص۸۸۔۹۰) کی] تعلیق رقم (۹۴) میں اس کا بیان گزرا ہے۔ (منہ) . [3] باجوری نے ’’حاشیہ‘‘ (۱/۴۱) میں بیان کیا … مقامِ ابراہیم اور اس جیسی دیگر چیزوں پر غلاف چڑھانا حرام ہے۔ (منہ). [4] یہ جو صورت ہے آخری دور میں اس طرح بہت زیادہ اہتمام سے ہورہی ہے جو پہلے نہ تھی، جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ موحد حکومت نے ان امور کو ختم کرنے میں سستی شروع کر دی ہے جو توحید کے منافی ہیں جو کہ اس کا راس المال ہے، اسی طرح مشائخ اور نیکی کا حکم دینے والی جماعت اور کمیٹی بھی سستی کا شکار ہے مگر جسے اللہ اس سستی سے بچائے۔ (منہ).