کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 664
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۲/۱۱۲)، ’’المناسک‘‘ (۵۸/۱۱۴)۔
۱۱۳: کسی کا ہدی تمتع کو قربانی کے دن سے پہلے مکہ میں ذبح کرنا:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۲/۱۱۳)، ’’المناسک‘‘ (۵۸/۱۱۵)۔
۱۱۴: سر کو پہلے بائیں طرف سے مونڈنا: [1]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۳/۱۱۴)، ’’المناسک‘‘ (۵۸/۱۱۶)۔
۱۱۵: چوتھائی سر کو مونڈنے پر اکتفا کرنا: [2]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۳/۱۱۵)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۱۷)۔
۱۱۶: غزالی کا ’’الإحیاء‘‘ میں یہ قول: ’’سنت یہ ہے کہ سر منڈوانے کے وقت قبلہ کی طرف رخ ہو:‘‘
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۳/۱۱۶)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۱۸)۔
۱۱۷: سر منڈواتے وقت یہ دعا کرنا: اللہ کا اس پر شکر ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت سے نوازا، ہم پر انعامات کیے، اے اللہ! میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے تو مجھ سے قبول فرما، میرے گناہ معاف کردے، اے اللہ! میرے ہر بال کے بدلے میرے لیے نیکی لکھ دے، اس کے ذریعے میری ایک برائی ختم کردے، اس کے ذریعے میرا ایک درجہ بلند کردے۔ اے اللہ! مجھے، سر منڈانے اور بال کترانے والوں کو بخش دے، اے وسیع مغفرت والے۔ آمین!‘‘ [3]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۳/۱۱۷)، ’’المناسک‘‘ (۵۹/۱۱۹)۔
[1] سنت دائیں طرف سے شروع کرنا ہے، جیسا کہ [’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(ص۸۵) میں] تعلیق رقم (۹۰) میں اس کا بیان گزرا ہے۔ (منہ).
[2] سارے سر کو مونڈنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ﴾ (الفتح:۲۷) ’’تم اپنے سر منڈاؤ گے اور بال کتراؤ گے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ’’رَحِمَ اللّٰہُ الْمُحَلِّقِیْنَ‘‘ اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے…‘‘ کیونکہ اس چوتھائی سر مونڈنے پر اکتفا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’قزع‘‘ (سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے) کی ممانعت کی صریح مخالفت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی بھی مخالفت ہے: ’’سارے کو مونڈو یا سارے کو چھوڑ دو (نہ مونڈو)۔‘‘ اسی لیے ابن الہمام نے بیان کیا: ’’سر مونڈنے کے بارے میں دلیل کا تقاضا پورا سر مونڈنے کو واجب قرار دیتا ہے، مالک کا بھی وہی قول ہے۔ میں اسے ہی اللہ کا دین قرار دیتا ہوں۔ (منہ).
[3] انھوں نے اسے ’’فتح القدیر‘‘ میں مستحب قرار دیا اور اس پر کوئی دلیل ذکر نہیں، نیز یہ کہ میری معلومات کی حد تک سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ مجھے تو اندیشہ ہے کہ اس کا دعا میں یوں کہنا: ’’اے اللہ! ہر بال کے بدلے میں میرے لیے ایک نیکی لکھ دے…‘‘ دعا میں حد سے بڑھنا ہے جس سے منع کیا گیا ہے اور یہ پہلا شخص ہوگا جو اس حدیث: ’’قربانی کرنے والے کو قربانی کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی‘‘ سے اقتباس کرے گا، جبکہ وہ حدیث لفظ: ’’الأضحیۃ‘‘ (قربانی) کے ساتھ موضوع ہے، جیسا کہ میں نے اسے ’’الأحادیث الضعیفۃ‘‘ میں بیان کیا ہے اور اس کا نمبر ایک ہزار کے بعد ہے۔ (منہ).