کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 662
’’الروضۃ الندیۃ‘‘ (۱/۲۶۷)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۰/۱۰۱)، ’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۳)۔ ۱۰۲: مشعر حرام پہنچ کر اس دعا کی پابندی کرنا: ’’اے اللہ! مشعر حرام، بیت حرام، ماہ حرام اور رکن و مقام کے صدقے ہماری طرف سے روحِ محمد کو تحیہ و سلام پہنچا، اے شان و شوکت اور عزت و احترام والے ہمیں دارالسلام (جنت) میں داخل فرما:‘‘ [1] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۰/۱۰۲)، ’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۴)۔ ۱۰۳:لباجوری (۱/۳۲۵) کا یوں کہنا: ’’قربانی کے دن جو کنکریاں مارنی ہیں وہ سات ہیں، ان کا مزدلفہ سے چننا مسنون ہے اور باقی جمرات کے لیے وہ وادی محسّر سے لی جائیں گی: [2] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۰/۱۰۳)، ’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۵)۔ ۷: رمی کی بدعات ۱۰۴: جمرات کی رمی کے لیے غسل: ’’مجموعۃ ابن تیمیۃ‘‘ ۲۰/۳۸۰)، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۳۱/۱۰۴)، ’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۶)۔ ۱۰۵: رمی سے پہلے کنکریوں کو دھونا: [3] ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۱/۱۰۵)،’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۷)۔ ۱۰۶: اللّٰہ اکبر کی جگہ سبحان اللّٰہ یا اس کے علاوہ کوئی اور ذکر: ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۱/۱۰۶)، ’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۸)۔
[1] اس دعا کے بدعت ہونے کے ساتھ ساتھ، اس میں وہ چیز بھی مذکور ہے جو سنت کے خلاف ہے، وہ مشعر حرام، بیت حرام، ماہ حرام اور رکن و مقام کے صدقے اللہ کا وسیلہ و قرب اختیار کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی صفات کے ذریعے اللہ کا وسیلہ اختیار کیا جاتا ہے، جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں تفصیل سے بیان ہوچکا ہے، حنفیہ نے اپنی کتب میں اس قول: ’’اے اللہ! میں مشعر حرام کے صدقے تجھ سے سوال کرتا ہوں…‘‘ کی کراہت کی صراحت کی ہے۔ (منہ) دیکھیں: ’’رد المحتار علی الدر المختار‘‘ (اور ’’المناسک‘‘ میں اضافہ نقل کیا: ہماری کتاب دیکھیں: ’’التوسل: أنواعہ وأحکامہ۔‘‘. [2] سنت میں اس کی کوئی اصل نہیں، ہوسکتا ہے مشائخ کی سنت ہو، غزالی نے التفصیل میں اس کی مخالفت کی ہے جسے انھوں نے ذکر کیا، انھوں نے کہا: وہ ساری کنکریاں مزدلفہ ہی سے لے گا، یہ سب خلاف سنت ہے، جیسا کہ [’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(ص۷۹۔۸۱)، میں] فقرہ (۸۳) میں گزر چکا ہے۔ (منہ). [3] البجیرمی (۲/۴۰۰) نے بیان کیا: ’’رمی کے پتھر/ کنکر کو دھونا شرط نہیں۔‘‘ (منہ).