کتاب: بدعت کا انسائکلوپیڈیا(قاموس البدع) - صفحہ 661
(۵۶/۹۶)۔
۹۵: حرم کے وقار کی خاطر سوار شخص کا مزدلفہ میں داخل ہوتے وقت سواری سے اترنا مستحب ہے: [1]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۹/۹۵)، ’’المناسک‘‘ (۵۶/۹۷)۔
۹۶: مزدلفہ پہنچ کر ان الفاظ سے دعا کرنے کا التزام کرنا جو کہ ’’الإحیاء‘‘ میں ہیں: ’’اللہم إن ہذہ مزدلفۃ، جمعت فیہا السنۃ مختلفۃ، نسألک حوائج مؤتنفۃ…‘‘ (اے اللہ! یہ مزدلفہ ہے، تو نے یہاں مختلف زبانوں کو جمع کردیا، ہم تجھ سے پیش آمدہ ضرورتوں کا سوال کرتے ہیں۔)
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۹/۹۶)، ’’المناسک‘‘ (۵۶/۹۸)۔
۹۷: مزدلفہ پہنچنے پر نماز مغرب میں جلدی کرنے کے بجائے وہاں سے کنکریاں چننے میں مشغول ہوجانا:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۹/۹۷)، ’’المناسک‘‘ (۵۶/۹۹)۔
۹۸: دو نمازوں (مغرب و عشاء) کے درمیان مغرب کی سنتیں پڑھنا یا دونوں نمازوں کے فرض اور وتر پڑھنے کے بعد انھیں عشاء کی سنتوں کے ساتھ ملا کر پڑھنا، جیسا کہ غزالی کا قول ہے:
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۲۹/۹۸)، ’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۰)۔
۹۹: قربانی کی رات اور مشعر حرام میں خوب آگ جلانا:
’’الباعث علی إنکار البدع والحوادث‘‘ (۲۵،۶۹)۔ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (۱۲۹/۹۹)، ’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۱)، ’’الثمر المستطاب‘‘ (۱/۶۰۰)
۱۰۰: قربانی کی رات جاگنا: [2]
’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘(۱۳۰/۱۰۰)، ’’المناسک‘‘ (۵۷/۱۰۲)۔
۱۰۱: مزدلفہ میں رات گزارے بغیر وقوف کرنا:
[1] غزالی نے اسے ’’إحیاء‘‘ میں مستحب قرار دیا ہے، اگر ایسے ہی ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بجالاتے، ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (ص۷۵۔۷۶) کی اصل میں گزرچکا کہ آپ سواری پر مزدلفہ آئے، آپ نے جس وقت فجر پڑھی تو اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے حتیٰ کہ مشعر حرام آئے ۔ (منہ).
[2] اس رات جاگنا غزالی نے مستحسن قرار دیا ہے، اور انہوں نے کہا: یہ قربانی کے محاسن میں سے ہے۔ [رسالہ ’’حجۃ النبی صلي الله عليه وسلم ‘‘ (ص۷۶)] کے فقرے (۷۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (قربانی کی رات) سوتے رہے حتیٰ کہ فجر ہوگئی اور سب سے بہتر طریقہ محمد کا طریقہ ہے اس بارے میں ابن القیم رحمہ اللہ کا کلام گزر چکا ہے۔ (منہ)
[ابن القیم کا کلام (ص۷۶)، فائدہ کے لیے ہم اسے نقل کرتے ہیں، انھوں نے کہا: آپ اس رات نہیں جاگے اور عیدین کی راتوں کو جاگنے کے بارے میں آپ سے صحیح ثابت نہیں۔].